تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 495

خرید نے کے لئے اس کے متعلق پوری واقفیت اورپوراعلم حاصل کرلیا۔قَلَّبَ الْاَمْرَ ظَھْرًا لِبَطَنٍ۔اِخْتَبَرَہٗ۔معاملہ کاامتحا ن کیا۔قَلَّبَ الْقَوْمَ :صَرَفَہُمْ۔لوگوں کورخصت کیا (اقرب) وَصِیْدٌ۔وَصِیْدٌ:اَلْفِنَاءُ گھر کاصحن۔اَلْعَتَبَۃُ۔دروازہ کی دہلیز۔بَیْتٌ کَالْحَظِیْرَۃِ یُتَّخَذُ مِنَ الْـحِجَارۃِ لِلْمَالِ اَیِ الْغَنَمِ وَغَیْرِھَا فِی الْجِبَالِ۔باڑے کی طرح کاچھوٹاسامکان جو پتھروں سے پہا ڑی جگہوں میں جانوروں کے لئے بناتے ہیں۔اَلْجَبَلُ۔پہاڑ۔اَلنَّبَاتُ الْمُتَقَارِبُ الْاُصُولِ۔چھوٹے تنوں والے پودے۔اَلضَّیْقُ وَ الْمُطْبَقُ۔تنگ (اقرب) تفسیر۔میرے نزدیک اس آیت میں اصحاب کہف کے ابتدائی ایام کا ذکر نہیں بلکہ ان کی اس وقت کی کیفیت بیان کی گئی ہے جوقرآن کریم کے وقت میں تھی اوریہ بتایاگیاہے کہ تم سمجھتے ہو کہ یہ شمالی اقوام جاگ رہی ہیں۔و ہ جاگ نہیں رہیں اس وقت وہ سورہی ہیں۔آئندہ زمانہ میں جاگیں گی۔گویا ان کی موجودہ حالت آئندہ کی حالت کے مقابل پر ایسی ہے کہ ان کوسوتے ہوئے سمجھنا چاہیے۔اس سے اس طرف اشارہ کیاہے کہ ان دنوں میں تم ان کے زور کوتوڑدوتوآئندہ ان کے شرسے محفوظ رہو گے۔مگر افسوس حضرت عثمان ؓ کے بعد سے اس قوم کی طرف مسلمانوں کی توجہ کم ہوگئی۔اگر اس وقت مسلمان حملہ کرکے بازنطینی حکومت کو تباہ کردیتے اوراس کاان کو حق تھا۔کیونکہ رومیوں نے حملہ کرنے میں پہل کی تھی۔تویقیناً آج دنیا کانقشہ مختلف ہوتا۔وَ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ میں بتایا ہے کہ ان کو آئندہ زمانہ میں ہم دنیا پر پھیلانے والے ہیں وہ وقت ان کی بیداری کاہوگا۔پس اس وقت کے آنے سے پہلے مسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لئے تدابیر کرلینی چاہئیں۔اصحاب کہف کے کتے کی تشریح وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيْدِ سے رومی بازنطینی حکومت کی طر ف اشارہ ہے جو بحیرہ مارمورہ کے دونوں جانب یورپ کی حفاظت کررہی تھی۔اگربحیرہ مار مورہ کودیکھا جائے توبالکل یوںمعلوم ہوتاہے کہ کوئی کتادائیں بائیں لاتیں پھیلائے پہر ہ دے رہاہے۔ترکوں نے اس علاقہ کو فتح کیا مگر اس وقت تک مقابلہ کااصل موقعہ نکل چکا تھا اورشمالی قومیں طاقت پکڑ چکی تھیں۔جن کاترک مقابلہ نہ کرسکتے تھے۔اگر بغداد اورسپین کی حکومتیں مل کر اپنے زمانہ میں شمالی ملکوں میں پھیل جاتیں تووہ ایک زریں موقعہ تھا۔یقیناً اس وقت اسلا م ان ممالک میں پھیل جاتا اورآج کے تاریک دن دیکھنے میں نہ آتے۔کہاجاسکتاہے کہ الٰہی تقدیر کو کس طرح روکا جاسکتاتھا لیکن یہ اعتراض الہامی کلام کی حقیقت کی نافہمی سے پیدا ہوگا۔الٰہی قانو ن یہ ہے کہ انذاری پیشگوئیاں ٹل بھی جاتی ہیں۔کم سے کم اسلام کو جو ضعف آج پہنچ رہاہے۔