تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 494

وَ تَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ اور(اے مخاطب)توانہیں بیدار سمجھتاہے۔حالانکہ وہ سوتے ہیں۔اورہم انہیں الْيَمِيْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ دائیں طرف (بھی)پھرائیں گےاوربائیں طرف (بھی)اوران کا کتّا (بھی ان کے ساتھ ساتھ)صحن میں ہاتھ بِالْوَصِيْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ پھیلائے(موجود )رہے گا۔اگر توان کے حالات سے آگاہ ہوجائے توتو اُن سے بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیر لے لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا۰۰۱۹ اوران کی وجہ سے رعب سے بھر جائے۔حلّ لُغَات۔تَحْسَبُھُمْ۔تَحْسَبُھُمْ حَسِبَ (یَحْسَبُ)سے مضارع کاصیغہ ہے۔اورحَسِبَہُ کے معنے ہیں ظَنَّہُ اس کے بارے میں گما ن کیا (اقرب) اَیْقَاظًا۔یہ یَقِظٌ وَیَقُظٌ وَیَقْظَانٌ کی جمع ہے اوریَقِظٌ وَ یَقُظٌ ویَقْظَانٌ صفت مشبہ کے صیغے ہیں اور یَقِظَ الرَّجُلُ(یَقَظًا)کے معنے ہیں :ضِدُّ نَامَ وَتَنَبَّہَ لِلْاُمُوْرِ وَحَذِروَفَطِنَ۔و ہ بیدار رہا۔معاملات میں محتاط ہوا۔چوکس ہوا،۔سمجھدار ہوا۔(اقرب) رُقُوْدٌ رُقُودٌ رَاقِدٌ کی جمع ہے۔اوریہ رَقَدَ سے اسم فاعل ہے اوررَقَدَ الرَّجُلُ ( یَرْقُدُ۔رَقْدًا وَ رُقُوْدًا وَ رُقَادًا)کے معنے ہیں :نَامَ۔سوگیا۔رَقَدَالْـحَرُّ:سَکَنَ۔گرمی ہٹ گئی۔رَقَدَ عَنِ الْاَمْرِ:غَفَلَ۔کسی کام سے غافل ہوا۔رَقَدَالثَّوبُ :اَخْلقَ۔کپڑابوسید ہ ہوگیا۔اور اَلرَّاقِدُ کے معنے ہیں۔اَلنَّائِمُ۔سویاہوا۔اس کے علاوہ اس کی جمع رُقَّدٌ بھی آتی ہے (اقرب) نُقَلِّبُھُمْ نُقَلِّبُھُمْ قلَّبَ(باب تفعیل)سے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے اورقَلَّبَہٗ کے معنے ہیں حَوَّلَہٗ عَنْ وَجْھِہِ۔اس کو اصل مقصد سے پھیر دیا۔قَلَّبَ الشَّیءَ: حَوَّلَہٗ وَجَعَلَ اَعْلَاہُ اَسْفَلَہُ۔کسی چیز کو اس طرح تبدیل کیا کہ اس کے نیچے کی سطح اوپر آگئی۔قَلَّبَ الشَّیْءَ لِلْاِبْتِیَاعِ:تَصَفَّحَہُ فَرَأَی دَاخِلَہٗ وَبَاطِنَہٗ۔کسی چیز کو