تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 493
شمالی ر خ ہوگی اس سے سورج دائیں سے بائیں کوہی گزرے گا۔فَـجْوَةٌ سے پتہ لگتاہے کہ اند روسیع علاقہ تھا۔چنانچہ ان غاروں کے دیکھنے سے تصدیق ہوجاتی ہے کیونکہ وہ بہت ہی وسیع جگہ ہے۔بعض نے اس کی گلیو ںاوراوپر نیچے کے تہ خانوں کا مجموعی اندازہ ۸۷۰میل تک کالگایا ہے (یعنی اگر سب گلیوں اورکمروں کو ایک دوسرے کے آگے رکھتے چلے جائیں)اوریہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہاں روشنی بہت کم پڑتی تھی۔ورنہ لوگ پکڑے جاتے۔انہوں نے غار کوایسی طرز پر بنایاکہ ہوابھی آئے اوران کاپتہ بھی نہ لگے۔چنانچہ سینٹ جیرون چوتھی صدی میں لکھتاہے کہ و ہ کمرے اس قد ر تاریک ہیںکہ حیرانی ہوتی ہے۔کہیں سے عمارت پھٹی ہوئی ہی ہوتوسورج کی کوئی شعاع پڑ سکتی ہے ورنہ نہیں (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Catacombs of Rome)۔اس کی جائے وقوع بتانے سے یہ مقصد تھاکہ شمال میں کوئی مسلمانوں کادشمن ہے مسلما ن اس سے ہوشیار رہیں مگرمسلمانوں کی غلطی ہے کہ انہوں نے اس طر ف توجہ نہیں کی۔اورپھر مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ میں یہ بتایاہے کہ ہم نے اشار ہ توکردیا ہے مگرسمجھ وہی سکتاہے جوہدایت پر ہو۔یعنی ان قوموں سے جو دوستانہ سلوک کرے گا وہ ہلاک ہوگا اورجو آپس میں اتفاق کریں گے کامیاب ہوں گے مگرمسلمانوں نے آپس میں لڑائیاں کیں لیکن روم کے بادشاہوں سے صلح رکھی۔سوائے ابتدائی زمانہ کے کہ جب رومی بادشاہ نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی جنگ کی خبر معلوم کرکے اسلامی مملکت پر حملہ کرناچاہاتوحضرت معاویہؓ نے اسے لکھا کہ ہوشیا ر رہنا ہمارے آپس کے اختلاف سے دھوکا نہ کھانا اگرتم نے حملہ کیا توحضرت علیؓ کی طرف سے جوپہلا جرنیل تمہارے مقابلہ کے لئے نکلے گاوہ میں ہوں گا۔اس کے برخلاف جب مسلمان اسلام سے دورجاپڑے توبغداد کے بادشاہو ں نے سپین کو نقصان پہنچانے کے لئے مشرقی رومی حکومت سے جوبازنطینی حکومت کہلاتی تھی صلح کی۔اورسپین کے مسلمان بادشاہوں نے بغدادی حکومت کے خلاف مددلینے کے لئے پاپائے روم کوتحفے بھیجے اوراس سے صلح کی۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔اس نکتہ کی طرف مجھے قرآنی حروف مقطعات آلمٓرٰ نے توجہ دلائی اورمسلمانوں کی یہ دردناک اورعبرتناک غلطی مجھے معلوم ہوئی۔