تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 492

فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ جگہ میں (رہتے )ہیں۔یہ بات اللہ(تعالیٰ کی نصرت )کے نشانوں میں سے(ایک نشان)ہے جسے الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ اللہ (تعالیٰ ہدایت کا)راستہ دکھائے وہی ہدایت پر ہوتا ہے اورجسے وہ گمراہ کر ے اس کاتو(کبھی )کوئی دوست وَلِيًّا مُّرْشِدًاؒ۰۰۱۸ (اور)راہ نمانہیں پائے گا۔حلّ لُغَات۔تَزٰوَرُ۔تَزٰوَرُاصل میں تَتَزَاوَرُہے اور تَزَاوَرَ سے مضارع مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اور تَزَاوَرَعَنْہُ کے معنے ہیں عَدَلَ وَ اِنْحَرَفَ منحرف ہوگیا۔اورعلیحد ہ ہوگیا(اقرب)باب تفاعل سے پہلے جومضارع کی تاء آتی ہے بوجہ دو’’ت ‘‘جمع ہوجانے کے۔ان میں سے پہلی ’’ت‘‘ کو حذف کردینے کی عربی میں اجازت ہے۔تَقْرِضُھُمْ۔تَقْرِضُھُمْ قَرَضَ سے مضارع مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔قَرَضَ الشَّیْءَ (یَقْرِضُ قَرْضًا) کے معنے ہیں قَطَعَہُ کسی چیز کوکاٹا۔قَرَضَ الْوَادِی :جَازَہٗ۔وادی کو طے کیا۔قَرَضَ الْمَکَانَ: عَدَلَ عَنْہُ وَتَنَکَّبَہٗ کسی چیزسے علیحدہ اور ایک طرف ہوگیا (اقرب) اَلْفَجْوَۃُ اَلْفُرْجَۃُ بَیْنَ الشَّیْئَیْن دوچیزوں کے درمیا ن کشادہ جگہ۔مااتَّسَعَ مِنَ الْاَرْضِ۔وسیع زمین۔سَاحَۃُ الدَّارِ گھر کاصحن (اقر ب) مُرشِدًا مُرشِدًااَرْشَدَ سے اسم فاعل ہے اورارشد کے معنے ہیں ھداہُ اسے راستہ دکھایا۔۲۔بتایا اورواضح کیا۔۳۔اوراس کے آگے چل کر منزل مقصود تک لے گیا۔۴۔ایمان کی طرف راہنمائی کی (اقرب) تفسیر۔اصحاب الکہف کے غار کا جائے وقوع اس آیت میں غار کا مقام بتایا گیاہے۔آیت میں جو علامات بتائی گئی ہیںان سے ظاہر ہے کہ یہ قوم اونچے شمالی علاقوں میں بسنے والی تھی کیونکہ جب شمال کی طرف جائیں اورمشرق کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں توسورج دائیں طرف رہتاہے اورجب جنوب میں آئیں اورمشرق کی طرف منہ کریں توبائیں طرف رہتاہے۔یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اس غا ر کامنہ شمال مغرب کی طرف تھا۔جوعمارت