تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 491
وَالْکِتَابَ کے معنے ہیں بَسَطَہٗ خِلَافَ طَوَاہُ کسی کتاب کو کھولااو رکپڑے کوپھیلا یا۔نَشَرَتْ اَوْرَاقُ الشَّجَرِ: اِمْتَدَّتْ وَانْبَسَطَتْ۔درخت کے پتے پھیل گئے۔نَشَرَ الْخَبَرَ نَشْرًا۔اَذَاعَہٗ۔کسی خبر کوپھیلا یا (اقرب) مِرْفَقًا۔رَفَقَ بہٖ وَعَلَیْہِ وَلَہٗ( یَرْفُقُ مِرْفَقًا)کے معنے ہیں لَطُفَ وَلَمْ یُعَنِّفْ۔اس پر نرمی کی اورسختی سے کا م نہ لیا (اقرب)پس مِرْفَقٌ کے معنے ہوئے نرمی۔تفسیر۔الکہف سے خاص جگہ کی طرف اشارہ یہاں پر جواَلْکَھْفِ کالفظ ا ستعمال کیا گیاہے۔یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان لوگوں کے ذہن میں کوئی خاص جگہ تھی۔ورنہ وہ اِلٰی کَھْفٍ کہتے کہ کسی غار کی طرف چلے جانا۔مگروہ اِلٰی کَھْفٍ نہیں کہتے۔بلکہ اِلَی الْکَھْفِ کہتے ہیں۔جس سے معلو م ہوتاہے کہ ان کے علاقہ میں کوئی خاص کہف(غار)تھی۔جومشہور تھی۔اوراس کی طرف اشار ہ کرنے سے ہرایک شخص اس مقام کوپہچان جاتاتھا۔دوسرے اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس کہف میں جانے سے پہلے دیرسے ا ن پر ظلم ہورہاتھا اورانہوں نے آپس میں یہ سکیم کررکھی تھی کہ جب ظلم حد سے بڑ ھ جائے اورباہر رہنا مشکل ہوتواس کہف میں چلے جائیں گے کیونکہ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ بتاتاہے کہ ان کابائیکاٹ ہوچکاتھا اوروہ اپنی قوم سے الگ اپنے جتھے میں رہتے تھے۔اس کہف (غار)کی شہر ت پہلے سے اس وجہ سے تھی کہ رومی غلامو ں پر جب ان کے آقا بہت ظلم کیا کرتے تھے تووہ بھاگ کر وہاں چلے جایا کرتے تھے۔وہ بھی ان کی مثال پر عمل کرناچاہتے تھے۔پس انہوں نے باہم مشور ہ کرکے فیصلہ کرلیا کہ اگرظلم بڑھ جائے اورباہررہنا دین کے لئے مضرہو تو اس غار میں چلے جائیںجہاں غلام بھاگ کرجایا کرتے تھے۔اگرچہ وہ غا رانہی لوگوںنے بہت کچھ بڑھائی لیکن و ہ پہلے بھی بہت وسیع تھی۔وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ اور(اے مخاطب )توسورج کو دیکھتاہے کہ جب و ہ چڑھتاہے توان کی وسیع جائے پنا ہ سے دائیں طر ف کوہٹ کر الْيَمِيْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِيْ گذرتا ہے اورجب و ہ ڈوبتاہے توان سے بائیں طرف کو ہٹ کرگذرتا ہے اوروہ اس (کہف )کے اندرایک فراخ