تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 477

دقیس والا واقعہ مسیحی کتب میں بھی لکھا ہواہے۔مشہورانگریز مؤرخ گبن اپنی کتاب ’’رومن حکومت کی ترقی اورتباہی ‘‘میں لکھتاہے کہ ایک کہانی سات سونے والوں کے متعلق طورس کے پادری گریگوری نے لکھی ہے جسے میں لکھ دینا ضروری سمجھتاہوں۔یہ کہانی شامی مسیحیوں میں مشہورتھی۔اورا ن کی کتب سے گریگوری نے نقل کی ہے۔گبن نے آگے جوکہانی نقل کی ہے۔وہ ابن اسحاق کی روایت سے بہت ملتی ہے۔اس میں لکھاہے کہ دقیس بادشاہ کے وقت یہی افسیس شہر کے چند امراء نوجوان جو مسیحی تھے انہوں نے مسیحیوں پر باد شاہ کاظلم دیکھ کر اپنے آپ کو ایک غار میں چھپادیا۔بادشاہ نے غار کامنہ بندکروادیا۔ایک سواسی سال تک اللہ تعالیٰ نے ان کو سلائے رکھا ایڈولیس جس کے پاس وہ علاقہ تھا اس کے غلاموں نے کسی ضرورت کے لئے غار کے منہ پرسے پتھر ہٹائے اورسورج کی شعاع اندر جانے پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا۔و ہ جاگے توسمجھے کہ چند گھنٹے ہم سوئے ہیں۔ان کوبھوک لگی توانہوں نے اپنے ایک ساتھی جیمبلیکس کو خوراک لینے بھجوایا۔اس نے شہر کوبدلاہواپایا اوردروازہ پر صلیب دیکھی تواس کی حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔نان پز کو جب اس نے سکہ دیا تواس کے لباس اورعجیب سکہ کودیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔اوریہ سمجھ کر کہ اسے کوئی خزانہ ملاہے اسے قاضی کے سامنے پیش کیا۔جب انہوں نے واقعہ سنا توبادشاہ تھیو ڈوسیس اورسب امراء مل کر غار پر گئے۔جہاں اصحاب کہف نے انہیں برکت دی اپنا قصہ سنایا اورفوت ہوگئے۔(جلد او ل ص ۱۹۷) علامہ ابوحیان بحر محیط میں لکھتے ہیں کہ سپین میںایک جگہ لوشاہے اس میں ایک غا رہے وہاں اصحاب کہف کی لاشیں بتائی جاتی ہیں اوراس میں ان کاکتابھی ہے۔ابن ابی عطیہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ جگہ دیکھی ہے۔چار پانچ سوسال سے وہاں ان کی لاشیں پڑی ہیں(بحر محیط)اسی طرح و ہ لکھتے ہیںکہ غرناطہ کے پاس ایک اجڑاہواشہر ہے۔جسے دقیو س کاشہر کہتے ہیں جو بڑے بڑے پتھروں سے بنا ہواہے۔اس میں عجیب عجیب قبریں ہیں۔مفسرین نے اصحاب کہف کے نام بھی لکھے ہیں۔چنانچہ ابن عباسؓ سے مروی ہے وہ یہ نام بتاتے ہیں۔میکسل مینا ،تملیخا،مرطونس ،کشطونس ،بیرونس،ویلنموس ،بطونس اورقایوس۔(ابن کثیرزیر آیت کہف :۲۲) اصحاب الرقیم کے متعلق تفاسیر کے واقعات رقیم کے متعلق بھی مختلف روایات ہیں بعض کہتے ہیں کہ تانبے اورپتھر کی لوح پر ان کے نام لکھے تھے۔اس لئے ان کانام رقیم ہوگیا۔بعض کے نزدیک ان کے شہرکانام رقیم تھا۔بعض کے نزدیک درہمو ں کانام تھا۔اوربعض کہتے ہیں کہ ان کے کتے کا نام تھا۔اوربعض کہتے ہیں کہ ان کی شریعت کانام تھا۔اوربعض کے نزدیک ان کی وادی کانام تھا۔اوربعض کے نزدیک پہاڑ کانام تھا۔جس پر وہ غار تھی(قرطبی زیر آیت ان اصحاب الکہف۔۔۔)۔