تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 42
پینے کے قابل بنادیتا ہے۔پس صداقتوں کادنیا میں موجود ہوناکافی نہیں۔وہ اسی وقت مفید ہوتی ہیں جب ان کو صاف کر کے اللہ تعالیٰ انسانی روح کے استعمال کے قابل بنادے۔وَتَسْتَخْرِجُوْامِنْہُ حِلْیَۃً۔یعنی موتی وغیرہ اسی ناقابل استعمال چیز سے ہی پیدا ہوتے ہیں جن سے تم زیور بناتے ہو۔اسی طرح اس میں کشتیاں چلتی ہیں جن سے سفر کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے اورتجارت بھی ترقی کرتی ہے۔جس طرح جانوروں کے متعلق فرمایاتھا کہ تم کو بھی لے جاتے ہیں اور تمہارے اسباب اورسامان بھی۔وہی کشتیوں کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں اور تمہارے تجارتی سامان بھی لے جاتی ہیں۔تجارتی سامان جس طرح ارزاں طور پر سمند رمیں لے جایا جاسکتاہے خشکی میں نہیں۔اسی وجہ سے سمندری کناروں کے لوگوں کی تجارت زیادہ چمک جاتی ہے۔وَ اَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ اوراس نے زمین میں (بہت سے)محکم پہاڑ (گاڑ)رکھے ہیں تاکہ وہ تمہیں چکر میں نہ ڈالے اور(اس نے سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ۰۰۱۶ تمہارے لئے ) کئی دریا (چلائے ہیں )اور کئی (خشکی کے )راستے (بھی بنائے)ہیں تاکہ تم (آسانی سے اپنی منزل مقصود تک )راہ پاسکو۔حلأ لُغَات۔اَلْقٰی اَلْقَاہُ اِلَی الْاَرْضِ کے معنے ہیں طَرَحَہُ۔اس کو زمین کی طرف پھینکا۔اَلْقٰی اِلَیْہِ الْقَوْلَ وَبِالْقَوْلِ:اَبْلَغَہُ اِیَّاہُ۔کوئی بات اُسے پہنچائی۔اَلْقَی الْمَتَاعَ عَلَی الدَّابَۃِ: وَضَعَہٗ۔سامان کو جانورپر لادا۔اَلْقٰی فِیْہِ الشَّیْءَ :وَضَعَہٗ۔کسی چیز کو کسی جگہ رکھا۔اَلْقٰی اِلَیْہِ السَّمْعَ:اَصْغٰی۔اس کی بات سننے کے لئے پوری توجہ کی۔(اقرب) رَوَاسِیَ۔رَوَاسِیَکے لئے دیکھو سورۃ رعد آیت ۴۔الرَّوَاسِیَ۔اَلْجِبَالُ الثَّوَابِتُ الرَّوَاسِخُ (اقرب) مضبوط پہاڑ۔ان معنوں کے لحاظ سے رَوَاسِیَ کا مفرد نہیں آتا۔اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ۔تَمِیْدُ مَادَ سے مضارع مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اور مَادَالشَّی ءُ کے معنے ہیں۔