تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 436

عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ ہے۔کہ وہ ان جیسے (اورلوگ )پیداکرے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے ان کے لئے ایک میعاد مقرر کردی فِيْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا۰۰۱۰۰ ہے پھر(بھی)ان ظالموں نے کفر(کی راہ اختیار کرنے )کے سواہربات سے انکار کردیا ہے۔تفسیر۔مسلمانوں کی ترقی قیامت کا ثبوت ہے ان کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ تم کو اللہ تعالیٰ دوبار ہ پیداکرسکتا ہے کیونکہ یہ صر ف دعویٰ ہوتاجس کے پیش کرنے کاکوئی فائدہ نہ تھا۔پس جواب میں یہ فرمایاکہ کیا تم ا س پریقین رکھتے ہو کہ تم کو ہلاک کرکے خدا تعالیٰ تمہاری شان و شوکت کسی دوسری قوم کو دےدے۔پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ کفار اس با ت پر کبھی یقین نہ کریں گے بلکہ بڑی شدت سے اس کا انکار کریں گے پس یہی دلیل ہم ان کے سامنے بعث بعد الموت کی پیش کرتے ہیں کہ قرآن کریم جو بعث بعدالموت کی خبر دیتا ہے۔اس نے یہ خبر بھی دی ہے کہ دشمنان اسلام کی حکومت مٹادی جائے گی اوران کی جگہ مسلمانوں کو دے دی جائے گی۔اگریہ بات پوری ہوجائے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ دوسری بات بھی عالم الغیب اور قادر خدا کی طرف سے ہے۔یہ بات کس شان سے پوری ہوئی ؟ عرب، ایران،روم اورمصر چند سالوں میں یکے بعد دیگرے اسلامی ضرب کی تاب نہ لاکر سرنگوں ہوگئےاورفاقہ کش مزدوردنیاکے بادشاہ ہوگئے۔اس حشر کاپیداکرنے والا کیادوسرے حشر سے عاجز آسکتاہے بعث بعدالموت کوعجیب سمجھنے والے وقوع سے پہلے کیا اس خبر کو بھی ویساہی عجیب نہ سمجھتے تھے۔قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْۤ اِذًا تو(انہیں)کہہ(کہ)اگر تم میرے رب کی رحمت کے (غیر متناہی)خزانوں کے (بھی)مالک ہوتے تو(بھی )تم لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًاؒ۰۰۱۰۱ (ان کے )خرچ ہوجانے کے ڈرسے (انہیں )روک ہی رکھتے۔اورانسان بڑاہی کنجوس ہے۔حلّ لُغَات۔اَمْسَکْتُمْاَمْسَکْتُمْیہ اَمْسَکَ سے جمع کاصیغہ ہے۔اَمْسَکَ الشَّیْء بِیَدِہٖ :