تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 435
اسی جگہ ایسی ہی کیفیت کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ جب عذاب محسوس کرنے کی حس کمزورہوجائے گی۔ہم ان کی حس کو تیز کردیں گے جیسے فرمایا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ (النساء:۵۷) جب ان کے چمڑے پک جائیں گے اورعذا ب کی حس کم ہوجائے گی توہم ان کی جلدیں بدل دیں گے تاکہ عذاب کامزہ چکھتے رہیں۔توآگ کاٹھنڈاہونا کفار کی حس کے لحاظ سے ہے نہ کہ خود آگ کی تیزی یاکمی کے لحاظ سے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ پرنالہ چلتاہے۔حالانکہ پرنالہ نہیں چلتا بلکہ پرنالہ میں سے پانی بہہ رہاہوتاہے۔ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا یہ (آگ)ان (ہی کے اعمال)کی جزاہوگی کیونکہ انہوں نے ہمارے نشانوں کاانکارکیا۔اورکہا(کہ )کیاجب ہم عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ (مرکر)ہڈیاں اورچوراچوراہوجائیں گے (توہمیں ازسرنو زندہ کیا جائے گا اور)کیاواقعی ہمیں ایک نئی مخلوق کی خَلْقًا جَدِيْدًا۰۰۹۹ صور ت میں اٹھایاجائے گا۔تفسیر۔یعنی یہ عذاب کلام الٰہی کے انکار کے سبب سے ہوگا۔اوریہ کلام الٰہی کاانکار درحقیقت بعد المو ت زندگی پرایمان نہ ہونے کی وجہ سے پیداہواہے۔قرآن کریم نے اس امر پر بہت ہی زوردیا ہے کہ مذہب کے انکار یا ا س کی تخفیف کی اصل وجہ بعد الموت زندگی کاانکار ہے۔اس میں واعظوں اوراستادوں اوراماموں اورمربّیوں کے لئے ایک بہت بڑاسبق ہے۔بچپن سے بعث بعد الموت کے دلائل نوجوانوں کے ذہن نشین کرنے چاہئیں۔اس کے بغیر کبھی صحیح اورعمد ہ تربیت نہیں ہوسکتی۔یہ آیات یہود پر بھی چسپاں ہوتی ہیں۔کیونکہ ان میں سے اکثر بعث بعد الموت کے منکر تھے۔اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ کیاو ہ (ابھی تک )سمجھ نہیں سکے کہ وہ (ہستی)جس نے آسمانوں اورزمین کوپیدا کیا ہے۔اس بات پر(بھی )قادر