تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 429

اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ١ؕ وَ یاتیراسونے کاکوئی گھر ہو۔یاتوآسمان پر چڑھ جائے۔اور ہم تیرے (آسمان پر )چڑھ جانے پر بھی نہیں مانیں گے لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ جب تک کہ تو(اوپر جاکر)ہم پر کوئی کتاب (نہ )اتارے۔جسے ہم (خود )پڑھیں۔تو(انہیں )کہہ(کہ) قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًاؒ۰۰۹۴ میرارب (ایسی بے ہودہ باتوں کے اختیار کرنے سے )پاک ہے میں (تو)صرف بشر رسول ہو ں۔حلّ لُغَات۔الزخرف اَلزُّخْرُفُ: اَلذَّھْبُ سونا کَمَالُ حُسْنِ الشَّیْءِ انتہائی خوبصورتی (اقرب) ترقیٰ۔تَرْقٰی رَقِیَ سے مضارع واحد مذکر مخاطب ہے رَقِیَ کے معنے ہیں۔صَعِدَ اوپر چڑھا مصدر رَقْیٌ اوررُقِیٌّ آتاہے لیکن رُقِیٌّ۔یَرْقِیْ کامصد ربھی ہے۔جس کے معنے منتراورجھاڑ پھونک کرناہے (اقرب) تفسیر۔یعنی ہم کوکچھ نہیں دیتے چلو اپنے لئے ہی کچھ کرو۔فرعون نے بھی کہاتھاکہ موسیٰ کے ہاتوں میں سونے کے کڑے نہیںہیںاس لئے سچا نہیں۔انہوں نے ترقی کرکے کہہ دیا کہ سونے کاگھر ہوتب سچا ہو سکتا ہے۔اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ اس میں انہوں نے معراج کے واقعہ پر اعتراض کیا ہے کہ اس قسم کاقصہ نہ سنادینا ہم توتب مانیں گے کہ توآسمان پر چڑھ جائے اورتووہیںرہے اورکتاب ہماری طرف پھینک دے تاکہ ہمیں تسلی ہوجائے کہ توواقعہ میں آسمان پرچڑھا ہے فرماتا ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۔توان کوجواب دے کہ میرارب اس قسم کے تماشوں اورلغو باتوں سے پاک ہے۔خدا کاکلام جس طرح رسولوں پر نازل ہوتارہا ہے اسی طرح مجھ پرنازل ہوتارہاہے۔اورجومعاملہ رسولوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہی میرے ساتھ بھی کرے گا۔مگر جن باتوں کاتم مطالبہ کرتے ہو وہ اس کی شان کے بھی خلاف ہیں اورمیری رسالت اوربشریت کے بھی خلاف ہیں دوسرے اس کے یہ معنے ہیں کہ جوباتیں تم پیش کرتے ہو۔ان میں سے