تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 424
صاف لکھتے ہیں کہ ہم کو بری اورمنذرباتوں کاعلم ہو جاتا ہے۔اورآئندہ کی اچھی خبریں نہیں ملتیں۔یہ گویا اپنے مونہہ سے اقرار ہے کہ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا۔حالانکہ انبیاء کی نسبت قرآ ن شریف یہ فرماتا ہے۔وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ (الکہف:۵۷) رسولوں کاپہلاکام وہ اخبارغیبیہ بتاناہے۔جوبشارتوں پر مشتمل ہوتی ہیں اوردوسراکام انذاری خبروںکابتانا ہے۔وَ لَىِٕنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا اوراگر ہم چاہیں تویقیناً جو(کلام الٰہی )ہم نے تجھ پر وحی (کے ذریعہ سے نازل )کیاہے۔اسے (دنیاسے )اٹھالیں تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًاۙ۰۰۸۷ پھر تواس امر میں اپنے لئے ہمارے خلاف کوئی کارساز نہیں پاسکے گا۔تفسیر۔اس آیت میں گوخطاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے۔مگرمراد انسان ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کانہ توکوئی اعتراض تھانہ سوال۔جن کاسوال تھاانہی کو جواب دیاگیاہے پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب صرف مضمون پرزوردینے کے لئے ہے۔فرماتا ہے کہ روح بغیر امر الٰہی کے ایسی ناقص شے ہے۔کہ علوم روحانیہ کابراہ راست لے آناتوبڑی بات ہے جوعلوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوچکے ہیں۔وہ اگر مٹ جائیں توان کو بھی روحانی لوگ واپس نہیں لا سکتے خواہ کتنے لوگ مل کرکوشش کریں۔مثلاً قرآن کریم ہی ہے اس کے علوم کو اگر ہم مخفی کردیں۔توکوئی ان علوم کوواپس نہیں لاسکتا۔شائدکوئی کہے کہ یہ ایک دعویٰ ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعویٰ نہیں بلکہ زبردست ثبوت ہے کیونکہ قرآن کریم آسمان پر توجائے گانہیں۔مگر جن کے دماغوں میں قرآنی برکات نہیں ان کے لئے ان کے لئے قرآنی علوم ویسے ہی ہیں جیسے کہ دنیا سے چلے گئے۔وہ لوگ اگر چاہیں۔کہ قرآنی تعلیم جیسی کوئی تعلیم پیش کردیں۔تووہ ایسانہیں کرسکتے۔چنانچہ اگلی ہی آیت میں ا س شبہ کابھی ازالہ کردیاگیاہے۔قرآن کریم کی حقیقت کے مٹنے کی پیشگوئی اس آیت میں اس طرف بھی اشار ہ کیاگیاہے۔کہ قرآن کریم زمین سے اٹھ جائےگا۔اوراحادیث میں بھی یہ ذکرآتاہے۔ابن مسعود اورابن عمرسے ابن مردویہ نے روایت کی