تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 423

روحانی صفات کو اپنے اندررکھتی ہو۔جیسے کہ قرآن کریم کے شروع میں ہی آتاہے۔اَلْحَمْدُلِلہِ کامل حمد جس میں حمد کی سب ضروری صفا ت پائی جائیں اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔انہی معنوں میں الروح کا لفظ اس جگہ استعمال ہواہے۔اوریہ بتایاگیا ہے کہ روح کوکامل کرنے کاکا م اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھاہے۔بغیراذن الہی کے کوئی روح کامل نہیں ہوسکتی۔خواہ اس کے کامل کرنے کے لئے کتنے ہی یوگ استعمال کئے جائیں۔اورکتنی ہی مشقیں کی جائیں۔اس دعوےٰ کی ایک تازہ مثال کرشنا مورتی کاوجود ہے۔مسز اینی بیسنٹ نے اس نوجوان کو اوران کے ایک اوربھائی کو خاص طور پر یوگا کے اصول کے ماتحت پالاتھا۔اوربڑے بڑے ماہر فن ان کی تربیت پرمقر ر کئے تھے۔کہ روزانہ توجہ سے ان کے خیالات کودرست رکھیں۔لیکن نتیجہ یہ ہواکہ جو بڑابھائی تھا وہ تو ہروقت شکایت کرتاتھا کہ ہم قید یوں کی طرح ہیں۔اورخوامخواہ ہم پرجبر کیا جاتا ہے۔اورچھوٹابھائی جسے بڑے کی بغاوت کی وجہ سے چنا گیا۔اب علی الاعلان مسزاینی بیسنٹ کے خیالات کی تردید کررہاہے (انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ کرشنامورتی Krishana murti)۔اگرکہا جائے کہ قرآن کریم کایہ جواب تو ایک دعویٰ ہے جواب کہلانے کامستحق نہیں۔تواس کا جواب یہ ہے کہ اس حد تک توصرف اصل بتایاگیاہے۔سوال کا جواب آیت کے اگلے حصہ سے شروع ہوتا ہے وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا کہہ کر یہ ظاہر کیاگیا ہے۔کہ روح کی قوتوںکو نشوونمادینے کےلئے جو مشقیں انسانوں نے بنائی ہیں گوان کے نتیجہ میں بعض قوتیں روح کو حاصل ہوجاتی ہیں۔مگرو ہ حقیقی قوتوں کے مقابلہ میں بالکل ناقص اورتھوڑی ہیں۔پس ان کی بناء پر کلام الٰہی کاانکار عقل کے خلاف ہے۔ناقص شے کامل کی قائم مقام کسی صورت میں نہیں ہوسکتی۔علم الارواح کے ناقص ہونے کاثبوت اس سے حاصل شدہ خبروں میں شدید اختلاف اس امر کاثبوت کہ یہ علم بالکل ناقص ہے میں ہمیشہ یہ دیاکرتاہوں۔کہ مختلف مذاہب کے لوگ جواس علم کی مدد سے روحانی باتیں دریافت کرتے ہیں۔ان کی معلوم ہوئی خبروں میں شدید اختلاف پایا جاتاہے۔اگرروحانی مشقوں سے سابق ارواح سے حقیقی طور پر علوم دریافت کئے جاسکتے۔تویہ اختلاف کبھی نہ ہوتا۔بھلایہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح ایک ہندویوگی کو کچھ اوربتاجاتی ہے۔اورایک مسیحی روحانی کوکچھ اوربتاجاتی ہے۔اورایک یہودی کو کچھ اوربتاجاتی ہے۔جولوگ اس علم کے ماہر ہیں۔ان میں سے ایک صاحب مسٹر انکسنس امریکن جو بہت سی کتب کے مصنف ہیں