تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 407
ہے۔اورزیارت الٰہی ایک انعام ہے۔اورکوئی عقلمند انسان اپنے محبوب کی زیارت کوچٹّی نہیں سمجھے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے توعبادت کی شان ہی یہ بتائی ہے کَاَنَّکَ تَرَاہُ وَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ (مسلم کتاب الایمان باب الاسلام ما ھو و بیان خصالہ) یعنی صحیح نماز یہ ہے کہ تو خدا تعالیٰ کودیکھ لے۔یاکم سے کم نماز کے وقت یہ یقین ہوکہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔پس اتنے بڑے انعام کو چٹی سمجھنا سخت ظلم ہے نماز اللہ تعالیٰ کے بڑے انعامات میں سے ہے۔میراتویہ عقید ہ ہے کہ انسان ایک نماز بھی چھوڑے تووہ نمازی نہیں کہلاسکتا۔کیونکہ حکم اقامۃ الصلوٰۃ کا ہے۔اوروہ دوام کوچاہتاہے۔جب ایک بھی نماز چھوڑ دی گئی تودوام نہ رہا۔نَافِلَۃً لَّکَ سے ا س بات کااظہار کیا گیا ہے۔کہ عبادت کاموقعہ دینا ہماراایک احسان ہے۔یاممکن ہے۔کہ تہجد کی نماز پہلے انبیاء پرواجب نہ کی گئی ہو۔ا س صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے۔کہ یہ عبادت کاموقعہ خاص تیرے لئے انعام ہے۔مَقَامًا مَّحْمُوْدًا میں عظیم الشان پیشگوئی مَقَامًا مَّحْمُوْدًا میں ایک بہت بڑی پیشگوئی کی گئی ہے۔دنیامیں کسی شخص کو بھی اتنی گالیاں نہیں دی گئیں۔جتنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کودی گئیں ہیں۔ڈاکو، بدکار، بدمعاش، فاسق سے فاسق انسان کو ان گالیوں کے کروڑویں حصہ کے برابربھی گالیا ں نہیں دی جاتیں۔جتنی کہ آج تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دی گئی ہیں۔مقا م محمود عطا فرماکر اللہ تعالیٰ نے ان گالیوں کاآپ کوصلہ دیاہے۔فرماتا ہے جس طرح دشمن گالیاں دیتا ہے۔ہم مومنوں سے تیرے حق میں درود پڑھوائیں گے اسی طرح عرش سے خود بھی تیری تعریف کریں گے۔اس کے مقابل پر دشمن کی گالیاں کیاحیثیت رکھتی ہیں۔مقام محمود سے مرادشفاعت بھی ہے مقام محمودسے مراد مقام شفاعت بھی ہے۔کیونکہ جیساکہ حدیثوں سے ثابت ہے۔سب اقوام کے لوگ سب نبیوں کے پاس سے مایوس ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس شفاعت کی غرض سے آئیں گے۔اورآپ شفاعت کریں گے(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ ذریۃ من حملنا مع نوح)۔اس طرح گویا ان سب اقوا م کے مونہہ سے آپ کے لئے اظہار عقیدت کروادیاجائے گا۔جو اس دنیا میں آپ کو گالیاں دیتی تھیں۔اوریہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا مقام محمود ہے۔مقام محمود سے مراد خروج مہدی بھی ہے مقام محمود سے مراد میرے نزدیک خروج مہدی بھی ہے۔کیونکہ اس کے ظہورکا وقت وہی بیان ہواہے۔جب مسلمانوںکے اسلام سے روگردان ہوجانے کی اورکافروں کے کفر میںترقی کرجانے کی خبر دی گئی ہے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے اس پہلوان کاظہور جوان گالیوں کی روکو تعریف