تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page iv

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَـحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے مامور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عظیم الشان رحمت کے نشان کے طور پر پسر موعود کی بشارت عطا فرمائی جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کے وجود میں پوری ہوئی۔اور کلمات الہامیہ آپ کے وجود مسعود میں جلوہ گر ہوئے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ ’’اسے علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔‘‘ قرآن مجید فرقان حمید کےوہ علوم و معارف بھی آپ کو سکھائے گئے جو اس سے پہلے منکشف نہ تھے۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’اس تفسیر کا بہت سا مضمون غور کانتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کاعطیہ ہے۔‘‘ آپ نے قرآن کریم کی تفسیر تحریر فرمائی اور اس کے مطالب و معانی اور نکات عجیبہ کو ظاہر و باطن میں پھر زندہ فرما دیا۔یہ تصنیف لطیف موسوم بہ تفسیر کبیر اس مذکورہ بالا بشارت کی صداقت کاایک زندہ ثبوت اورشاہد ناطق ہے اور لاریب قرآنی علوم و معارف کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جو خدا تعالیٰ نے موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے موافق ظاہر فرمایا ہے۔تفسیر کبیر کی پہلی جلد ۱۹۴۰ء میں اشاعت پذیر ہوئی بعدہٗ مختلف وقتوں میں اس کی کل ۱۱ جلدیں شائع ہوئی تھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اوائل خلافت میں ہی ارشاد فرمایا کہ تفسیر کبیر کی صد سالہ جوبلی کے تحت دوبارہ اشاعت کی جائے۔چنانچہ اس کے پازیٹو بنوا کر گیارہ کی بجائے دس جلدوں میں شائع کیا گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس علمی خزینہ کی اشاعت کا تازہ ایڈیشن طبع کروانے کی ہدایت فرمائی ہے۔پہلی طباعت کتابت ہوکرشائع ہوئی تھی اور باریک قلم سے