تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 392
افسوس کہ مسلمانوں نے چندگذشتہ صدیو ںسے اس نصیحت کو بھلادیا۔اوران کی طاقت کمزورہوگئی۔اگر وہ سمندری بیڑوں کاخیال رکھتے تواسلام کبھی اس قدرکمزور نہ ہوتاجس قد ر کہ اب ہے۔فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ انسان بعض قسم کی مخلوق سے افضل ہے۔سب قسم کی مخلوق سے نہیں (تفسیر البغوی زیر آیت ھذا)۔مگر یہ استدلال غلط ہے کیونکہ اس جگہ بنی آدم کا ذکر بہ حیثیت جماعت ہے۔اوراس میں کیا شک ہے کہ سب انسان توسب مخلوق سے افضل نہیں ہیں۔انسانوں میں بعض تونہایت گند ے ہیں اورجانوروں سے بھی بدتر ہیں۔بعض معمولی بھلے مانس ہیں۔اورجانوروں سے اچھے ہیں۔بعض بہت اچھے ہیں۔اورعام فرشتوں سے بھی اچھے ہیں۔بعض اعلیٰ مقام پر ہیں اوراعلیٰ فرشتوں سے بھی اعلیٰ ہیں۔غرض انسان سب مخلوق سے افضل نہیں۔بلکہ بعض انسان سب مخلوق سے اچھے ہیں۔اورانسان بحیثیت انسان کے اکثر مخلوق سے اچھاہے۔کیونکہ سورج،چاند ،ستارے ،گھوڑے ،بیل،اونٹ ،بکریاں یہ کافرو مومن سب ہی کے کام کررہی ہیں اورسب ہی کی خدمت پر لگائی گئی ہیں۔پس انسان بلحاظ جنس کے اکثر مخلوق سے افضل ہے۔اورانسان بلحاظ کامل فرد کے سب مخلوق سے افضل ہے۔يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ اور(اس دن کو بھی یاد کرو)جس دن ہم ہرایک گروہ کو ان کے پیشواسمیت بلائیں گے۔پھرجن کے دائیں ہاتھ میں بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا يُظْلَمُوْنَ ان (کے اعمال)کی کتاب دی جائے گی۔وہ(بڑے شوق سے )اپنی کتاب کوپڑھیں گے۔اوران پر ذرّہ فَتِيْلًا۰۰۷۲ بھر (بھی)ظلم نہیں کیاجائے گا۔حلّ لُغَات۔فتیلًا۔اَلْفَتِیْلُ:اَلْمَفْتُوْلُ۔بٹی ہوئی چیز۔حَبْلٌ دَقِیْقٌ مِنْ خَزَمٍ اَوْ لِیْفٍ کھجورکے ریشوں کی باریک بٹی ہوئی رسی۔اَلسَّحَاۃُ الّتِیْ فِی شَقِّ النَّوَاۃِ۔گٹھلی کے شگاف کاپردہ۔مَافَتَلْتَہُ بَیْنَ اَصَابِعِکَ مِنَ الْوَسْخِ۔و ہ قلیل سی میل جوہاتھوں کے درمیان بٹی جائے(اقرب)آیت کامطلب یہ ہے کہ ان پر ذرہ