تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 391
سے تھے۔مگران کوجہاز نہ ملا اورپیچھے رہ گئے۔اتنے میں ان کی بیوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے لئے معافی حاصل کرلی۔اورساحل پر جاکر واپس لے آئی(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر الاسباب الموجبۃ المسیر الی مکۃ۔۔۔اسلام عکرمۃ و صفوان)۔وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ اورہم نے بنی آدم کو (بہت )شرف بخشاہے۔اوران(کو اوران کے سامانوں )کو خشکی اورتری میں اٹھایا ہے رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ اورانہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیاہے۔اورجن (اقسا م کی مخلوقات)کوہم نے پیدا کیاہے۔ان میں سے خَلَقْنَا تَفْضِيْلًاؒ۰۰۷۱ بہتوں پر ہم نے انہیں بڑی فضیلت دی ہے۔تفسیر۔قوموں کو ایک دوسرے پر تفاخر نہیں کرنا چاہیے اس میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کوعزت بخشی ہے۔نہ کہ خاص اقوام کو پس قوموں کو ایک دوسرے پر تفاخر نہیں کرناچاہیے۔اس سے یہود اورقریش کو نصیحت کی ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے معزز سمجھتے تھے۔اوربتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اک قوم کو عزت دی ہے۔مگربعض اقوام اس عزت سے فائد ہ نہیں اٹھاتیں اورخدا تعالیٰ کے کھو لے ہو ئے راستوں کو اپنے لئے بندکرلیتی ہیں۔سمندر اور خشکی یکساں طور پر انسانی ترقی کے لئے مقدرہے وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّوَ الْبَحْرِ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے۔کہ سمندر اورخشکی کویکساںطور پر اللہ تعالیٰ نے انسانی ترقی کے لئے مقررکیا ہے۔پس اگر کوئی قوم عزت حاصل کرناچاہے تواسے یکساں طورپردونوں سے فائدہ اٹھاناچاہیے۔لوگ کہتے ہیںکہ قرآن کریم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کابنایاہواہے(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ دین اسلام )۔کیایہ باتیں جو اس جگہ بیا ن ہوئی ہیں۔ایک عرب کے رہنے والے کے منہ سے نکل سکتی ہیں۔خصوصاً اس کے منہ سے جس نے کبھی کشتی میں سفر تک نہیں کیا۔