تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 390
باب التقی الجمعن۔۔۔)۔عرب کے بسنے والے کیا مسلمان، کیایہودی ،کیامسیحی سمندر سے سخت ڈرتے تھے۔اس لئے سمندر کی مثال سے انہیں سمجھایا ہے کہ سمندر میں جاتے ہو توذراسے طوفان سے گھبراجاتے ہو کہ شائد بداعمالیوں کی وجہ سے عذاب آنے لگاہے لیکن خشکی پر دلیر ہوتے ہو۔مگریاد رکھو ہم تم کو خشکی میں تباہ کردیں گے۔اس جگہ مسلمانوں کو سمندری سفروں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ جب خشکی تری دونوں میں خطرات ہیں توتم اس حماقت میں مبتلانہ ہونا کہ خشکی پر بیٹھے رہو اورسمندر کے سفرکونظرانداز کردو۔اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ یاتم اس بات سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں (پھر )دوسری بار اس (یعنی سمندر)میں لوٹالائے۔اور تم پر ایک تُند عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ ہواچھوڑ دے اور تمہارے کفر کی وجہ سے تمہیں غرق کردے۔(اور)پھر اس (عذاب)پرتم ہمارے خلاف لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا۰۰۷۰ اپنا کوئی مددگار نہ پائو۔حلّ لُغَات۔قاصفًا:قَاصِفًا قَصَفَ(یَقْصِفُ)سے اسم فاعل ہے۔اورقَصَفَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں۔کَسَرَ ہُ فَانْکَسَرَ کسی چیز کو توڑاتووہ ٹوٹ گئی۔قَصَفَ الرَّعْدُ:اشْتَدَّ صَوْتُہ بجلی کی کڑ ک کی آوا ز سخت ہوگئی اور رَعْدٌ قَاصِفٌ کے معنے ہیں اَیْ صَیِّتٌ۔خوب گرجنے والی بجلی۔رِیْحٌ قَاصِفٌ اَیْ شَدِیْدَۃٌ تَکْسِرُ مَامَرَّتْ بِہٖ مِنَ الشَّجَرِ وَغَیْرِ ہِ اور رِیْحٌ قَاصِفٌ اس ہواکو کہیں گے کہ جس درخت یا اور کسی چیز پر وہ گزرے تو اس کو توڑ دے۔(اقرب) تَبِیْعًا:تَبِیْعًا التَّبِیْعُ کے معنے ہیں النَّاصِرُ۔مددگار۔التَّابِعُ۔تابع(اقرب) تفسیر۔فتح مکہ کی پیشگوئی اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى۔اس میں میرے نزدیک فتح مکہ کے وقت کی خبر دی ہے اس وقت بہت سے کفار مکہ چھو ڑ کربھاگ گئے تھے۔اورکشتیوں میں سوار ہوکر یمن یاحبشہ کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔مگرسمند رمیں طوفان آگیا۔اوربہت سے غرق ہوگئے۔عکرمہ بن ابی جہل بھی بھاگنے والوں میں