تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 386

اِیْ بِفُرْسَانِکَ وَمُشَاتِکَ اورآیت وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ میں خیل سے مراد سوار اور رَجِل سے مراد پیدل چلنے والے کے ہیں (اقرب) رَجِلٌ رَاجِلٌ کی جمع ہے اور رَاجِلٌ اس شخص کے لئے بولتے ہیں جس کے پاس سواری نہ ہو۔(اقرب) تفسیر۔اسلام کے نزدیک فطرت میں نیکی ہے اِسْتَفْزِزْ کے معنے ہیں اپنی جگہ سے ہٹالے۔اس سے معلو م ہواکہ انسان پہلے نیکی کے مقام پر کھڑاہوتاہے پھراگر اس پر شیطان کااثر ہوجائے۔تواپنے اصل مقام کو چھو ڑکر بدی کی طرف چلاجاتاہے۔اس بارہ میں عیسائی تعلیم اوراسلام کی تعلیم میں کتنا بڑافرق ہے۔عیسائیت توکہتی ہے کہ انسان کی فطرت میں بدی اصل ہے۔اورکفارہ کے ذریعہ اسے بدی سے ہٹا کر نیکی کی طرف لایا گیا ہے(دنیا کا منجی از ماسٹر برکت اے خان صفحہ ۲۰،۲۱)۔مگر اسلام کہتاہے کہ اصل مقام نیکی ہے۔مگرشیطان اس سے ہٹاکر لے جاتاہے۔بِصَوْتِكَمیں اس طرف اشارہ ہے کہ بعض طبائع ا س قدرکمزورہوتی ہیں کہ وہ صرف دھمکیاں سن کرہی ڈرجاتی ہیں یااعتراض سن کرہی شک میں پڑ جاتی ہیں۔ان میں مقابلہ کی جرأت نہیں ہوتی اورنہ تحقیق کی ہمت۔اس آیت میں شیطانی حملو ںکی اقسام بیان فرمائی ہیں۔بعض کو وہ دھمکا کر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتاہے۔یعنی شیطانی لوگ غرباء اوربیکس لوگوں کو ڈراڈراکر نبیوں کے ساتھ شامل ہونے سے روکتے ہیں۔بعض کوسواروں اورپیادو ںکے ذریعے سے نیکی سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یعنی انہیں قسم قسم کے دکھ دیئے جاتے ہیں۔اوربعض کوبدرسوم اور صحبت کے ذریعہ سے تباہ کیا جاتا ہے۔اوربعض کومال اوردولت کی لالچ دے کر حق کے ماننے سے روکاجاتاہے۔مگر جن کے دل میں ایمان ہوتا ہے وہ ان باتوں سے قابو میں نہیں آتے ،وہی لو گ متاثرہوتے ہیں جن کے دل میں مرض ہوتی ہے۔یہ جو فرمایا ہے شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ اس کایہ مطلب ہے کہ شیطانی لوگ انبیاء کے خلاف جتھے بھی بناتے ہیں اور اپنے مالوں اوراولاد کوجمع کرکے متفقہ طور پر نبیوں پر حملہ کرتے ہیں گویا اپنی سب طاقتوں کو جمع کرلیتے ہیں۔آئمہ کفر کی انبیاء کے خلاف چالوں کی اقسام ان اقسا م پر اگر غورکیاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ آئمہ کفار تین قسم کی چالیں انبیاء کے خلاف چلتے ہیں۔جولوگ کمزور ہوں۔ان کے لئے ڈرانے اورتکلیف دینے کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔جوبرابر والے ہوں ان سے جتھہ بازی کے اصول پر اتحاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اورجو طاقتور ہوں انہیں غنائم کے وعدے دے کر یالیڈری کی امیدیں دلاکر پھنساتے ہیں۔نبیوں کے مقابلہ پر ان تینوں