تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 35
اوریہ جمادات میں سے ہیں جوانسان سے بہت دور کا تعلق رکھتے ہیں۔اوران کی ذاتی نشوونما کی طاقت ایسی مخفی ہے کہ اس کااندازہ ظاہر ی نگاہ سے نہیں کیا جاسکتا۔لیکن باوجود اس کے وہ اپنی تاثیرات سے نباتات اورحیوانات کے نشوونما پر ان کے ذریعہ سے بھی اوربراہ راست بھی انسا ن کے نشوونما پر خاص اثر ڈالتے ہیں۔پس حیوانی غذا اور نباتی غذا کے بعد اس مخفی غذاکی طرف اشارہ کیا جو انسان جمادات سے اورخصوصاً ان بڑے جمادی اجرام سے جوآسمان پر ہیں حاصل کررہا ہے۔حیوانوں اور نباتات کے متعلق پیدا کرنے کے الفاظ اور سورج اور چاند کے لئے سَخَّرَکا لفظ استعمال کرنے کی وجہ اس جگہ ایک اورلطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حیوانوں اورنباتات کے بارہ میں توصرف یہ فرمایاتھا کہ ہم نے ان کو تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔لیکن رات اوردن اورسورج ،چاند، ستاروں کے ذکر میں سَـخَّرَ کالفظ فرمایا ہے۔جس کے معنے ہیںبغیر اجرت کے کام پر لگارکھا ہے۔یہ فرق اس لئے کیا کہ حیوانوں اورنباتا ت سے انسان جو فائدہ اٹھاتاہے۔اس کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے زور سے یہ فائدہ اٹھایاہے گویہ ہےغلط۔کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو پیدانہ کرتا تووہ فائدہ کہاں سے اٹھاتا۔مگر پھر بھی چونکہ بظاہر اس میں انسانی اختیار کا دخل ہے۔وہاں صرف پیدائش کی طر ف اشارہ کیا ہے۔مگر اس آیت میں جو فوائد بیان ہوئے ہیں۔ان کے حصول میں انسانی تصرف کاکوئی دخل نہیں۔اس لئے اس جگہ سَخَّرَ کالفظ استعمال کرکے بتایاکہ کم سے کم ان اشیا ء کی نسبت تو تم کوماننا پڑے گاکہ وہ جو انسانی خد مت کررہی ہیں ان کا موجب حکم الٰہی ہے۔کیونکہ ان پر تم کو کوئی تصرف حاصل نہیں ہے۔اس آیت کے آخر میں یہ فرمایا کہ یہ امور عقل مندوں کے لئے نشان ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قوت فکر یہ نزدیک کی اشیاء کاحال معلوم کرتی ہے اورقوت عقل دور کی چیزوں سے بھی تعلق رکھتی ہے۔چونکہ پہلی آیات کی اشیاء خوراک سے تعلق رکھتی تھیں اورانسان ان کے اثرکو اپنے اند ر محسوس کرتاہے اس لئے وہاں فکر کا لفظ رکھا ہے۔اوران چیز وں کی تاثیر بیرونی ہے اور ان سے فائدہ اٹھانا دانش سے تعلق رکھتا ہے اس لئے لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ فرمایا۔