تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 376
رہے گی۔تومسلمانوںکو سمجھ لیناچاہیے کہ اس وقت آسمانی نشانات بھی ضرو ردکھائے جائیں گے کیونکہ بغیر تخویف کے عذاب کابھیجنا ہماری سنت کے خلاف ہے۔وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا اورجب ہم نے تجھے کہاتھا(کہ)تمہارارب ضرور ان لوگوںکو ہلا ک(کرنے کافیصلہ)کرچکا ہے۔(تب الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ انہوںنے کیا فائدہ اٹھایا )اورجورؤیا ہم نے تجھے دکھائی تھی۔اسے (بھی )اورا س درخت کو( بھی) جسے قرآن میں الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا ملعون قرار دیاگیا ہے۔ہم نے لوگوں کے لئے صرف امتحان کاذریعہ بنایا تھا اور(باوجود اس کے کہ )ہم انہیں طُغْيَانًا كَبِيْرًاؒ۰۰۶۱ ڈراتے(چلے جاتے )ہیں پھر (بھی )وہ (ہماراڈرانا)انہیں ایک بہت بڑ ی سرکشی میںہی بڑھارہاہے۔حلّ لُغَات۔اَحَاطَ بِالنَّاسِ۔اَحَاطَ بِالْاَمْرِ کے معنے ہیں اَحْدَقَ بِہٖ مِنْ جَوَانِبِہٖ کسی امر پر پورے طورپر قابوپالیا۔اُحِیْطَ بِہٖ:دَنَاھَلَاکُہٗ اس کی ہلاکت قریب ہوگئی (اقرب)پس اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ کے معنے ہوں گے کہ(۱)تمہارارب ان لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے (۲)لوگ ہررنگ میں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔فِتْنَۃٌ۔فَتَن سے مصدر ہے اوراس کے معنے ہیں۔اَلْخِبْرَۃُ وَالْاِبْتِلَاءُ۔آزمائش اورامتحا ن۔اَلضَّلَالُ وَالْاِثْمُ وَالْکُفْرُ۔گمراہی۔گناہ۔کفر۔اَلْفَضِیْحَۃُ۔رسوائی۔ذلت۔اَلْعَذَابُ۔عذاب۔اَلْمَرَضُ۔مرض۔الْعِبْرَۃُ۔عبرت۔اِخْتَلَافُ النَّاسِ فِی الْاٰرَاءِ وَمَا یَقَعُ بَیْنَہُمْ مِنَ الْقِتَالِ۔اختلاف آراء اوراس کی وجہ سے لڑائی جھگڑا۔(اقرب) طُغْیَان۔طُغْیَانٌ طَغٰی یَطْغِیْ اورطَغِیَ یَطْغٰی کامصدر ہے۔اورطَغٰی کے معنے ہیں جَاوَزَ القَدْرَ وَ الحَدَّ۔