تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 375
اَلتَّصَرُّفُ فِیْ مِلْکِ الْغَیْرِ وَمُجَاوَزَۃُ الْحَدِِّّ حد سے بڑھ جانااور دوسرے کی ملکیت پر دست درازی کرنا۔انہی معنوں کے پیش نظرلفظ ظلم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جاتی۔نیز اس کے معنے ہیں وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِہٖ کسی بات یاکام کوبے جا اور بے محل کرنا۔وَظَلَمَ الْبَعِیْرَ: ظُلْمًا اِذَانَحَرَہٗ مِنْ غَیْرِدَاءٍ۔اور ظَلَمَ الْبَعِیْرَ کے معنے ہیں کہ اونٹ کو بغیر کسی بیماری کے ذبح کردیا (تاج) تفسیر۔آسمانی معجزات کا سلسلہ کسی وقت بھی بند نہ ہوگا اس آیت میں یہ بتایا گیاہے کہ کسی زمانہ میں بھی آسمانی معجزات کے متعلق یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ اب ان کاسلسلہ بند ہوگیا ہے۔یہ مسلمانوں کونصیحت ہے۔کیونکہ مسلمانوں کے لئے بھی خطرہ تھا کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجائیں اوراس کے تازہ نشانات دیکھنے سے محرو م ہوجائیں تو یہ سمجھنے لگیں کہ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات کاآنابند ہوگیاہے۔پس انہیں ہوشیار کردیاگیا کہ ایساکبھی خیال نہ کرنا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نشانات دکھاتارہتاہے تاکہ اس کے بندوں کے ایمان تازہ ہوتے رہیں۔دلائل اس بارہ میں کہ نشانات ہمیشہ جاری رہیں گے نشانات کے ہمیشہ جاری رکھنے کے لئے مندرجہ ذیل دلائل بیان کئے گئے ہیں۔(۱)نشانات دکھانے کے خلاف صرف یہ کہاجاسکتاہے کہ ان نشانوں سے پہلوں نے کیافائدہ اٹھایا کہ آپ اٹھائیں گے۔فرماتا ہے کہ اگر یہ وجہ نشان بھیجنے کے خلاف ہوتی تو پہلے نبی کے بعد پھر کوئی نشان ہی ظاہر نہ ہو تا۔مگرایسا نہیں ہوا۔انبیاء کے دشمن نشانات کاانکارکرتے ہی چلے گئے ہیں اورہم بھی نشانات بھیجتے چلے گئے ہیں۔پس کسی وقت بھی اس وجہ سے نشانات کابھیجنا بند نہیں ہوسکتا۔آدمؑ کے وقت میں بھی نشانات دکھائے گئے۔نوح ؑ کے وقت میں بھی نشان دکھائے گئے۔اورپھر باوجود تکذیب ثمود کی قوم کو بھی نشان دکھائے گئے جو آدم ؑ اورنوح ؑ کے بعد گذری ہے۔ثمود کی مثال اس لئے دی گئی ہے کہ ثمود عرب قوموں میں سے تھے اوران کے مٹے ہوئے آثار عرب کے کفار۔یہود اورنصاریٰ سب کے سامنے موجود تھے۔اورتینوں قومیں ان کے حالات سے عبرت حاصل کرسکتی تھیں۔عذاب سے پیشتر نشانات کا بھیجنا ضروری ہوتا ہے اس کے بعد دوسری دلیل یہ دی کہ جب عذاب آئے اس سے پہلے نشانات کابھیجناضروری ہوتاہے۔تاکہ جولو گ عذاب سے بچائے جاسکیں بچالئے جائیں۔پس جب ہم یہ خبردے رہے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں شدید عذاب آئیں گے حتیٰ کہ دنیا کی کوئی بستی ان عذابوں سے محفوظ نہ