تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 371
کشفٌ:کَشْفٌ کَشَفَ (یَکْشِفُ) کامصدر ہے اورکَشَفَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں اَظْھَرَہُ وَرَفَعَ عَنْہٗ مَا یُوَارِیہِ وَیُغَطِّیْہِ۔کسی چیز سے پرد ہ ہٹا کراسے ظاہر و ننگا کردیا۔کَشَفَ اللہُ غمَّہٗ۔اَ زَالَہ ٗ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے غم کو دور کردیا (اقرب)۔اَلضُّرُّ۔اَلضُّرُّکے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر۸۹۔اَلضُّرُّ: ضِدُّ النَّفْعِ۔ضر کے معنے ہیں نقصان۔سُوْءُ الْحَالِ وَالشِّدَّۃُ۔تنگ حالی وَفِی الْکُلِّیَّاتِ الضَّرُ بِالْفَتْحِ شَائِعٌ فِی کُلّ ضَرَرٍ وَبِالضَّمِّ خَاصٌ بِمَا فِی النَّفْسِ کَمَرَضٍ وَھُزَالٍ کلیات میں یوں لکھا ہے کہ ضَرٌّ کے معنے خاص اس تکلیف کے ہیں جو خود نفس میں ہو جیسے بیماری یا لاغر پن وغیرہ لیکن ضُرٌّ کا لفظ عام ہے اور ہر تکلیف پر بولا جاتا ہے۔(اقرب) تَحْویْلًا تَحْوِیْلٌ حَوَّلَ کامصدر ہے یہ لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح پراستعمال ہوتاہے۔حَوَّلَہٗ (متعدی) نَقَلَہٗ مِنْ مَوْضِعٍ اِلٰی اٰخَرَ اسے ایک جگہ سے دوسر ی جگہ منتقل کردیا۔حَوَّلَ الشَّیْءَ اِلَیْہِ :قَلَّبَہٗ واَ زَالَہٗ کسی چیز کو کسی اورصورت میں تبدیل کردیا۔حوَّلَ ھُوَ۔(لازم) اِنْتَقَلَ کوئی چیز اپنی جگہ سے دوسری جگہ چلی گئی۔(اقرب) تفسیر۔حشر ارواح پچھلی تین چار سورتوںمیںیہ مضمون بیان ہواتھاکہ کفار حشر اسلام کی آیات سن کر یہ دھوکاکھاجاتے ہیں کہ شاید اس سے حشر اجساد مراد ہے اوراس پر اعتراضات کرنے لگ جاتے ہیں۔لیکن وہ بھی مراد ہوتب بھی ان کااعتراض درست نہیں۔لیکن اس موقعہ پر حشر اجساد کا ذکر نہیں بلکہ حشرارواح کا ذکر ہے۔اوریہ ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایک خاص وقت پر اپنے بندوں کو آواز دے گا توآئمہ کفار کے بنے ہو ئے جال ٹو ٹ کر تاگہ تاگہ ہوجائیں گے اوران کے شکار ان میں سے نکل کر محمد رسول اللہ صلعم کی طرف چلے جائیں گے۔پھر مسلمانوں کو اس ترقی کے زمانہ میں ہوشیار رہنے کاحکم دیاتھا۔اب پھر پہلے مضمون کی طرف رجوع فرماتا ہے اورکفار سے خطاب فرماتا ہے کہ یہ جومسلمانوں کی ترقی اور تمہاری ہلاکت کی پیشگوئی کی گئی ہے اسی سے اپنے دین کی سچائی اور شرک کی حقیقت کا پتہ لگا لو۔ہم کہتے ہیں کہ تم پرعذاب آئے گا تم اپنے معبودوں سے دعائیں کرکے دیکھو کہ کیا وہ تمہاری دعائیں سن سکتے ہیں اورعذاب کوہٹاناتو الگ رہا۔کیااسے کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔چونکہ آئندہ تباہی شرک سے ہونے والی تھی اس لئے اس کی تفصیل بتائی ہے۔مسلمانوں میں بھی بغداد کی تباہی