تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 363
اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ دیکھ انہوں نے تیرے متعلق کس طرح باتیں بنائی ہیں۔جس کے نتیجہ میں و ہ گمراہ ہوگئے ہیں اور(اب ) سَبِيْلًا۰۰۴۹ و ہ(اس گناہ سے بچنے کی ) کوئی راہ نہیں پاسکتے۔تفسیر۔اس آیت میں اَمْثَال (جمع کالفظ )رکھ کربتادیا کہ اوپر کی آیت میں مَسْحُور کے سارے ہی معنے مراد تھے ورنہ مَثَل کالفظ چاہیے تھا۔اس سے یہ بھی معلو م ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم کے جوالفاظ کئی معنے رکھتے ہیں جب و ہ سیاق و سباق سے مناسبت رکھتے ہوں توسب کے سب معنے بیک وقت مراد ہوتے ہیں۔وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ خَلْقًا اورانہوں نے (یہ بھی )کہا ہے (کہ )کیا جب ہم (مر کر)ہڈیاں اور چُوراچُوراہوجائیں گے (توہمیں از سرنوزندہ کیا جَدِيْدًا۰۰۵۰ جائے گااور)کیا واقعی ہمیں ایک نئی مخلوق کی صور ت میں اٹھایاجائے گا۔حلّ لُغَات۔عِظَامًا۔اَلْعِظَامُ اَلْعَظْمُ کی جمع ہے اوراَلْعَظْمُ کے معنے ہیں۔ہڈی (اقرب) رُفَاتًا اَلرُّفَاتُ کے معنے ہیں اَلْحُطَامُ سوکھی ہوئی چیز کے ٹکڑے۔کُلُّ مَاتَکَسَّرَ وَبَلِیَ۔بوسید ہ اور چورا چیز (اقرب) تفسیر۔پیچھے ذکر ترقیات کاتھا اورپھر کفار کے جہنم میں گرائے جانے کا ذکر تھا۔اس کے متعلق جو کفار کو شبہ پیداہوسکتا تھا اس آیت میں اس کا ذکر کیا گیاہے فرماتا ہے کفاران باتوں کوسن کر اعتراض کرتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاںاو رریزہ ریزہ ہوجائیں گے توکیاپھر ہماری نئی پیدائش ہوگی۔