تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 340

شرعاً کسی کو آپ ہی مجرم قرار دے دینا منع ہے یہ بھی یا درہے کہ شرعًا یہ بھی منع ہے کہ کوئی شخص آپ ہی کسی کو مجرم قرار دے کر اُسے سزادےدے۔اگر کوئی ایساکرے تویہ بھی اسراف فی القتل سمجھا جائے گا۔ایک حدیث میں آتاہے کہ قَالَ یَارَسُوْلَ اللہِ اِنْ وَجَدْتُ مَعَ اِمْرَ أَتِیْ رَجُلًا أُمْھِلُہُ حَتّٰی آتِیَ بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَاءَ قَالَ نَعَمْ (مسند احمد بن حنبل مسند ابو ہریرۃؓ)ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے پاس دیکھو ں تواسے قتل کروں یاانتظار کروں اورچارگواہ لاکر ثبوت بہم پہنچائوں۔آپؐ نے فرمایا۔چارگواہ لائو۔ایک اورحدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اگر تم خود ہی قتل کروگے توقتل کے مرتکب سمجھے جائو گے۔اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا۔میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔کیونکہ اس کے معنے ہیں کہ مقتول کے ولی کو حکومت کی طرف سے مدد دی جائے گی اس لئے خود ہی فیصلہ اورخود ہی اجراء نہ کرے بلکہ حکومت کے ذریعہ فیصلہ کرائے۔اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًاکے الفاظ میں لَایُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ کی دلیل بھی بیان کی گئی ہے۔یعنی وارث کو یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں امن قائم رکھنے کافرض اس کے ذمہ بھی ہے۔پس چاہیے کہ وہ بھی ظلم نہ کرے اوریاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے ا س کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔پس اسے بھی دوسروں کے حقوق کاخیال رکھنا چاہیے اورجس حکومت نے اس کے حقوق کی حفاظت کی ہے ظلم کرکے اس کے نظام میں خلل نہیں ڈالناچاہیے۔وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى اور تم اس طریق کے سواجو(یتیم کے حق میں )زیادہ اچھا ہو(کسی اورطورپر)یتیم کے مال کے پاس (تک بھی)نہ يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ پھٹکو یہاں تک کہ وہ اپنی مضبوطی کی عمر کوپہنچ جائے۔اور(اپنے )عہد کو پوراکرو (کیونکہ)ہرعہد کی نسبت یقیناً مَسْـُٔوْلًا۰۰۳۵ (ایک نہ ایک دن )باز پُرس ہوگی۔حلّ لُغَات۔اَلْعَھْدُ اَلْعَھْدُکے لئے دیکھو رعدآیت نمبر۲۱۔