تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 339
ًسلطان سے مراد سُلْطَان سے مراد غلبہ یا حجت ہے یعنی تم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے کہ وہ گورنمنٹ کے پاس شکایت کرے اوراپنا حق لے لیو ے اورپھر حاکم کے فیصلہ کرچکنے کے بعد خواہ قاتل کوقتل کرے خواہ معاف کرے۔لیکن اگر گورنمنٹ سمجھے کہ مقتول کاولی شرارت سے معافی دے رہا ہے توپھراسے بھی حق ہے کہ وہ قتل کی سزاجاری کردے۔کیونکہ اپنے حقوق کو جائزطور پر ادانہ کرنے کی صورت میں یابوجہ خوف ادانہ کراسکنے کی صورت میں ولایت حکومت کی طر ف منتقل ہوجاتی ہے۔قصاص میں ذاتی حق کے علاوہ قومی حق بھی ہوتا ہے تمام قصاص کے مسائل میں یہ حکم جاری ہے اوراس کی ایک عمدہ مثال حضرت علیؓ کے عمل سے ملتی ہے آپ نے ایک دفعہ دیکھا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پِیٹاہے۔حضرت علی ؓنے اس کوروکا اورمضروب کو کہا کہ اب تم اس کو مارو۔مگرمضروب نے کہا کہ میں اس کومعاف کرتا ہوں۔حضرت علیؓ نے سمجھ لیا کہ ڈر کے مارے اس نے اسے مارنے سے انکار کیا ہے کیونکہ وہ مارنے والا بڑاجبار شخص تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا تم نے اپنا ذاتی حق معاف کردیا ہے مگر میں اب قو می حق کو استعمال کرتاہوں۔اور اُسے اسی قدر پِٹوادیا جس قدرکہ اس نے دوسرے کمزو رشخص کو پیٹاتھا۔قاتل کے حقوق کی حفاظت یہ جوفرمایا کہ فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ اس میں قاتل کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔قصاص میں کئی قسم کی زیادتیاں ہوسکتی ہیں (۱) تکلیف سے قتل کیاجاوے مثلاً کسی کو جلاد مقرر کیا جائے اوروہ کُند آلہ سے قتل کرے (۲) موقعہ معافی کاہو مگروہ زوردے کہ نہیں میں ضرورہی قتل کروں گا۔اسی طرح اور کئی طریقے اسراف کے ہوسکتے ہیں۔مقتول کے ورثاء کو معاف کرنے کی تلقین لَایُسْرِفْ کے الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ گوجان کے بدلہ میں جان کاعام قانون ہے۔مگروارثانِ مقتول کوہمیشہ قتل کے بعد قتل پرعمل نہیں کرناچاہیے اورقتل کے فعل کو بڑھانانہیں چاہیے۔یعنی جہاںتک ہوسکے قاتل کو اگرکسی طرح بھی اس کی اصلاح کی امید کی جاسکتی ہو۔معاف کردینا چاہیے۔اس حکم سے اسلام نے ملک کے امن کی بنیاد قائم کردی ہے۔دنیا کاامن دوغلطیوں میں سے ایک کی وجہ سے بربادہوتاہے۔یاتوجب قاتلوں کو ان کے کئے کی سزانہیں ملتی یاجب اندھادھند سزادی جاتی ہے۔بعض دفعہ معاف کردینا ہی آئندہ امن پیداکرنے کاموجب ہوسکتا ہے۔مگرموجودہ قانون وارثان مقتول کو ایساکوئی اختیار نہیں دیتا اورہرقتل کے بدلہ میں قتل ہی کرتا ہے۔اس سے ملک کا امن برباد ہوتاہے اوردشمنیاںبڑھتی جاتی ہیں۔اگراسلامی تعلیم پر عمل ہوتا توقتل بہت کم ہوجا تااوربُغض کم ہوجاتے۔