تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 328
کی طرف جاتاہے تو وہ اس سے حسنِ سلوک کرتے ہیں۔پس دوسرے مقام کے مسافر کی خدمت کرنا اس کافرض ہے تاحق ضیافت ادا ہوتارہے۔ابن السبیل کے حق کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی بستی میں جائو تو تین دن تک کی ضیافت کا تم کو حق ہے۔صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ اگر بستی والے نہ دیں۔فرمایا چھین کر بھی لے سکتے ہو۔(ابوداؤد کتاب الاطعمۃ باب ماجاء فی الضیافۃ) یہ حکم اس وقت کے لئے ہے جب اسلامی تمدن جاری ہوکیونکہ ان ایام میں دوسرے لوگ اس سے ضیافت کا حق لے سکیں گے۔اس حکم کو اگر دنیا میں جاری کیا جائے تو بہت سی خرابیاں جو ہوٹلوں اور سرائوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں دنیا سے دور ہوجائیں اور غرباء کے لئے بھی دنیا کا سفر جو اعلیٰ تربیت کا ایک ذریعہ ہے آسان ہوجائے گا مگر افسوس کہ خود مسلمانوں نے بھی اس حکم کو بھلادیا ہے۔مسافروں سے حسنِ سلوک کا یہ عام حکم دنیا سے بہت سے فتنے مٹانے کا موجب ہے۔کیونکہ لڑائی جھگڑا منافرت سے پیدا ہوتاہے۔اگر اس طرح مہمان نوازی کا رواج ہو تو منافرت دور ہوجائے۔اور گائوں اور ملکوں کے جھگڑے مٹ جائیں۔وہ لوگ جو کسی دوسرے ملک کی مہمان نوازی سے فائدہ اٹھا چکے ہوں کبھی بھی جلدی سے ان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نہ ہوںگے سوائے خبیث ارواح کے جو نسبتاً تھوڑی ہوتی ہیں۔نیز اس حکم سے گائوں اور قصبوں کے نظام کی بنیاد بھی پڑتی ہے کیونکہ مہمان نوازی سارے گائوں پر واجب کی گئی ہے۔پس اس حکم کے پورا کرنے کے لئے ہرگائوں والے ایک ایسے نظام کی پابندی پر مجبور ہوںگے جس کے ماتحت سارا گائوں مہمانوں کی خدمت کرسکے اور یہ نظام ان کے دوسرے کاموں میںبھی مفید ثابت ہو گا۔لَاتُبَذِّرْ۔پھر فرمایا کہ اوپر کے احکام میں مال کو خرچ کرنے کی جو نصیحت کی گئی ہے۔اس کا یہ مطلب نہ سمجھنا کہ ما ل کو لٹا دینا چاہیے ہم نے انہی اخراجات کا حکم دیا ہے جو ضروری ہیں بے فائدہ مال لُٹانے کا حکم نہیں دیا۔فضول خرچی کی تشریح ابن مسعود کا قول ہے اَلتَّبْذِیْرُ۔الْاِنْفَاقُ فِیْ غَیْرِ حَقٍّ (ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔یعنی ناجائز خرچ کو تبذیر کہتے ہیں۔پس اس حکم میں دینی انفاق شامل نہیں۔دین کی کسی ضرورت کےلئے اگر کوئی اپنا سارا مال بھی خدا کی راہ میں دےدے تو وہ مبذرنہ ہوگا۔کیونکہ اس نے بے جا خرچ نہیں کیا۔قرآن مجید نے فضول خرچی کی دوسری جگہ تشریح یوں فرمائی ہے۔وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(الفرقان:۶۸)کہ نہ تو اسراف کرناچاہیے اورنہ کنجوسی سے کام لیناچاہیے مگرمیانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔