تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 327
وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ وَ لَا اور قرابت والے کو اور مسکین کو اور (مسافر)راہروکو اس کاحق دے تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۰۰۲۷ اور اسراف کسی رنگ میں(بھی )نہ کر۔حلّ لُغَات۔لَا تُبَذّرْ۔لَا تُبَذِّرْ بَذَّرَسے نہی مخاطب کا صیغہ ہے۔اور بَذَّرَالْمَالَ کے معنے ہیں فَرَّقَہٗ اِسْرَافًا(اقرب)۔مال کے خرچ کرنے میں فضول خرچی سے کام لیا۔پس لاتُبَذِّرْ کے معنے ہوںگے۔توا سراف نہ کر۔تفسیر۔ہر شخص کے مال میں رشتہ داروں اور مساکین کے حق ہونے کی دلیل اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ ہر شخص کے مال میں رشتہ داروں۔مساکین اور مسافروں کا حق ہے رشتے دار انسان کی کمائی میں کئی طرح مدد کا موجب ہوتے ہیں۔اس لئے اس کے مال میں ان سب کا حق ہوتا ہے مثلاً والدین نے ایک بیٹے کو پڑھا دیا۔اور وہ کسی اعلیٰ عہدہ پر پہنچ گیا اور باقی بھا ئی علم سے محروم رہے تو اس عہدہ دار کے مال میں باقی بھائیوں کا بھی حق ہے کیونکہ جس روپے سے اس کو تعلیم دلائی گئی تھی اس میں ان سب کا حق تھا۔مساکین اور ابن السبیل کابھی اللہ تعالیٰ نے حق قرار دیا ہے اور دوسری جگہ کھول کر بھی بتایا ہےوَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ (الذاریات:۲۰)کہ انسان کے اموال میں سائل وغیرہ کا بھی حق ہوتاہے۔مساکین کا حق قرار دینے کی ایک تو یہ وجہ ہے کہ دنیا میں امیر غریب بدلتے رہتے ہیں۔جو آج غریب ہیں کبھی امیر تھے اور جو آج امیر ہیںکبھی غریب تھے اور اس وقت کے امیروں نے ان سے حسن سلوک کیا تھا۔پس ساری دنیا کواگر مجموعی نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی کا مال اس کا خالص مال نہیں بلکہ اس میں دوسروں کے حقوق شامل ہیں۔دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی سب اشیا ء اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کےلئے بحیثیت جماعت پیدا کی ہیں نہ کہ زید یا بکر کے لئے۔پس اگر زید یا بکر کسی وجہ سے زیا دہ مالدار ہوگئے ہوں تو اس سے ان باقی لوگوں کا حق باطل نہیں ہوجاتا۔جو دنیا کی چیزوں کی ملکیت میں زید اور بکر کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔بےشک بوجہ خاص محنت کے زید اور بکر کا زائد حق اسلام تسلیم کرتاہے لیکن ان کو مالک بلاشرکت غیر نہیں تسلیم کرتا۔ہر شخص کے مال میں مسافروں کے حق ہونے کی وجہ مسافروں کا حق اس طرح کہ جب یہ دوسری جگہ