تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 326

میرے رب تو ان پر رحم کر۔کیونکہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔اس لطیف تشبیہ میں بتایا ہے کہ تیر اہاتھ ہروقت ان کی خدمت میں لگا رہنا چاہیے۔والدین کے لئے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے اس آیت میں یہ بھی اشارہ کر دیا کہ انسان بالعموم والدین کی ویسی خدمت نہیں کرسکتا۔جیسی کہ ماں باپ نے اس کی بچپن میں کی تھی۔اس لئے فرمایا کہ ہمیشہ دعا کرتے رہنا۔کہ اے خدا تُو ان پر رحم کر۔تاکہ جو کسر عمل میں رہ جائے دعا سے پوری ہوجائے۔ک کے معنے تشبیہ کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کی رو سے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ بڑھاپے میں ماں باپ کو ویسی ہی خدمت کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ بچہ کو بچپن میں۔والدین کے لئے یہ دعا اس لئے بھی سکھائی گئی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا اسے خود بھی اپنا فرض ادا کرنے کا خیا ل رہے گا۔رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ تمہارارب جو کچھ (بھی ) تمہارے دلوں میں ہو اسے (سب سے ) بہتر جانتا ہے اگر تم نیک ہوگے تو (یاد رکھو کہ) وہ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ۠ غَفُوْرًا۰۰۲۶ باربار رجوع کرنے والوں کو بہت ہی بخشنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَوَّابِیْنَ۔اَوَّابٌ کی جمع اَوَّابُوْنَ آتی ہے۔اور اَوَّابٌ آبَ سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔آبَ اِلَی اللہِ کے معنے ہیں۔رَجَعَ عَنْ ذَنبِہٖ وَتَابَ اپنے گناہ سے لوٹ کر اللہ کی طرف رجوع کیا (اقرب) پس اَوَّابٌ کے معنے ہوںگے بار بار رجوع کرنے والا۔تفسیر۔یعنی اگر ایسی نیک نیتی اپنے دل میں پیدا کرے جو اوپر بیان ہوئی ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے یعنی اس کے عمل میں جو کمی رہ جائے اللہ تعالیٰ اسے پوری کردیتا ہے۔اس آیت کا مضمون اس حدیث سے بھی ملتاہے جو اوپر گذرچکی ہے اور جس کا یہ مضمون ہے کہ والدین کی خدمت کا موقع پاکر بھی جس کے گناہ نہ بخشے جائیں اس پر لعنت ہوکیونکہ اس آیت کا مضمون یہی بتاتا ہے کہ جو صالح ہوگا یعنے اوپر کے احکام کے مطابق عمل کرے گا توا س سے خدا تعالیٰ مغفرت کا معاملہ کرے گا۔