تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 27
هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ وہ ،وہ(پاک)ذات ہے جس نے بادلوں سے پانی اتاراہے اسی میں سےتمہارے پینے کا(پانی جمع کیاجاتا)ہے مِنْهُ شَجَرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ۰۰۱۱ اوراسی سے وہ درخت(تیار) ہوتے ہیں جن میں تم (مویشیوںکو)چراتے ہو حلّ لُغَات۔السَّمَاء السَّمَاءُ کے معنے ہیں آسمان۔کُلُّ مَاعَلَاکَ فَاَظَلَّکَ۔ہراوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز۔سَقْفُ کُلِّ شَیْءٍ وَکُلِّ بَیْتٍ۔چھت۔رُوَاقُ الْبَیْتِ۔برآمدہ۔ظَھْرُالْفَرَسِ۔گھوڑے کی پیٹھ۔السَّحَابُ۔بادل۔اَلْمَطَرُ۔بارش۔اَلْمَطَرَۃُ الْجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمد ہ بارش۔اَلْعُشْبُ۔سبزہ وگیاہ۔(اقرب) تُسِیْمُونَ:تُسِیْمُوْنَ اَسَامَ(جس کامجرد سَامَ ہے)سے مضارع جمع مخاطب کاصیغہ ہے اوراَسَامَ الْاِبِلَ اِسَامَۃً کے معنے ہیں۔اَرْعَاھَا۔اونٹوں کوچرایا۔وَقِیْلَ اَخْرَجَھَا اِلَی الْمَرْعٰی۔اوربعض نے اَسَامَ الْاِبِلَ کے معنے یہ کئے ہیں کہ اونٹوں کو چراگا ہ کی طر ف نکالا(اقرب)وَ مِنْهُ شَجَرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ اسی پانی سے و ہ درخت تیار ہوتے ہیں جن میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔تفسیر۔السَّمَآءِ کے معنے بادل سماء کے معنے جیساکہ حل لغات میں بتایاگیاہے۔بادل کے بھی ہوتے ہیں اوراس جگہ جیساکہ الفاظ سے ظاہر ہے۔بادل کے معنے ہی ہیں۔فرماتا ہےو ہ بادل جن سے تم کوپینے کا پانی ملتاہے اورجن کے ذریعہ سے وہ درخت اورپودے اُگتے ہیں جن سے تمہارے گلّوںکو چار ہ ملتاہے خدا تعالیٰ نے ہی تواتاراہے۔عرب میں پانی کی قلت قرآن کریم کے پہلے مخاطب عرب تھے۔جن کے ملک میں کنویں کم ہیں۔زیادہ حصہ ملک کاباولیوں سے پانی پیتا ہے۔جن میں بارش کاپانی جمع ہو جاتا ہے۔اگر وہ پانی جمع نہ کیا جائے۔تووہ پیاسے مر جائیں۔مکہ مکرمہ میں بھی صرف ایک چشمہ زمزم کا ہے جس کاپانی سخت کھاراہوتا ہے۔اورنہر زبید ہ کے نکلنے سے پہلے وہاں پینے کاپانی باؤلیوں سے ہی مہیا ہوتاتھا۔بلکہ اب تک بھی نہر زبید ہ کے نکلنے کے باوجود پانی کاکچھ حصہ باولیوںسے ہی مہیاکیا جاتا ہے۔جوپیپوں میں ڈال کر لوگ فروخت کرنے کے لئے مکہ میں لاتے رہتے ہیں۔باقی