تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 299

کے معنے ہیں۔فَعَلَ بِہِ مَایَکْرَھَہُ اَوْاَحْزَنَہٗ۔اس سے ایسا معاملہ کیا جس کو وہ ناپسند کرتا تھا یااس کوغمگین کیا (اقرب) وُجُوہٌ:وُجُوہٌ وَجْہٌ کی جمع ہے۔اوراَلْوَجْہُ کے معنے ہیں نَفْسُ الشَّیْءِ۔کسی چیز کی ذات۔سَیِّدُالْقَوْمِ۔قو م کاسردار۔اَلْجَاہُ۔عزت۔(اقرب) وَلِیُتَبِّرُوْا:وَلِیُتَبِّرُوْاتَبَّرَ سے مضارع مذکر غائب کاصیغہ ہے اورتَبّرَہٗ کے معنے ہیں۔اَھْلَکَہُ وَدَمَّرَہُ۔اس کو ہلاک و تباہ کردیا۔تَبَّرَ کُلَّ شَیْءٍ۔کَسَّرَہُ وَفَتَّتَہُ۔کسی چیز کو توڑ کر ٹکڑ ے ٹکڑ ے کردیا۔اَلتَّبَارُ۔اَلْھَلَاکُ۔ہلاکت (اقرب)وَلِیُتَبِّرُوْ ا کے معنے ہوں گے۔کہ وہ ہلا ک کردیں۔تفسیر۔یہود کا دوسرا فساد اور اس کی سزا اس آیت میں یہود کے دوسرے فساد کی خبر دی گئی ہے اورپھر اس کی سزاکا ذکر کیا گیا ہے۔فساد ان کاحضرت عیسیٰ کو دکھ دیناتھا۔اورسزاان کا رومیو ں کے ہاتھو ں سے تباہ ہونا تھا۔یہ واقعہ ۷۰ء بعد مسیح کا ہے۔گویا حضرت عیسیٰ کی زندگی میں ہی یہ واقعہ ہو ا۔کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ ان کی عمر ۱۲۰سال تھی۔اورتینتیس سال کی عمر میں و ہ صلیب پر لٹکائے گئے تھے (قاموس الکتاب زیر لفظ عہدنامہ کا تواریخی خاکہ)۔اس عذاب کی تفصیل یہ ہے کہ وسیپین نامی ایک رومی جرنیل تھا اسے بادشاہ روم نے یہود کی سرکشیوں کی و جہ سے ان کی سر کوبی کاحکم دیاتھا۔جب یہ اس حکم کے بجالانے میں مشغو ل تھا۔اسے ایک کشف نظر آیا جس کی تعبیر اس نے یہ کی کہ مجھے روم واپس جانا چاہیے۔کیونکہ وہاں سے فسادات کی خبریں آرہی تھیں۔اس کے واپس لوٹنے پر وہاںکچھ ایسے حالات پیداہوئے کہ اسے بادشاہ بنادیاگیا۔اوراس نے اپنے بیٹے ٹائٹس کو فلسطینی مہم کاافسر مقررکر دیا۔جس نے یروشلم کو ۷۰ ؁ء بعد مسیح فتح کرکے اس کے گرائے جانے کاحکم دیا۔اورشہر کی دیواروں اورمسجد کو گرادیاگیا اوریہودی حکومت کاخاتمہ ہوگیا۔گو ۱۳۵ ؁ء میں یہود نے پھر ایک ناکا م بغاوت کی مگر وہ صرف چراغ سحری کے آخر ی شعلہ کی سی حیثیت رکھتی تھی۔(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ JEWاورہسٹورئینزہسٹری آف دی ورلڈ) بائبل میں یہود کی دوسری تباہی کا ذکر اس واقعہ کی نسبت بائبل میں ان الفاظ میں حضرت موسیٰ کی پیشگوئی درج ہے۔’’انہوں نے اجنبی معبودوں کے سبب اسے غیر ت دلائی اوروہ اسے نفرتی کاموں سے غصے میں لائے۔انہوں نے شیطانوںکے لئے قربانیاں گذرانیںنہ خداکے لئے۔بلکہ ایسے معبودوں کے لئے جن کو آگے وے نہ پہچانتے تھے۔جو نئے تھے اورحال میں معلوم ہوئے اوران سے تیرے باپ دادے نہ ڈرتے تھے۔تواس چٹان