تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 282
جس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیت المقدس سے بھی زیادہ عزت دی جا نے والی تھی۔اوریہ جو دکھا یا گیا کہ آپ نے سب انبیاء کی امامت کرائی اس میں یہ بتایاگیا تھا کہ آپ کا سلسلہ عربوں سے نکل کر دوسری اقوام میں بھی پھیلنے والا ہے اورسب انبیاء کی امتیں اسلام میں داخل ہوں گی۔اوریہ اشاعت مدینہ میں جانے کے بعد ہوگی۔اوراس میں اس طرف بھی اشار ہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کے علاقہ کی حکو مت دی جائے گی۔مسجد کو دیکھنے کی تعبیر چنانچہ تعبیر الرؤیا کی کتب میں لکھا ہے کہ تَدُلُّ رُؤْیَۃُ کُلِّ مَسْجِدٍ علٰی جِھَتِہٖ وَالتَّوَجُّہِ اِلَیْھَا کَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی وَالْمَسْجِدِ الْـحَرَامِ وَمَسْجِدِ دِمشْقَ وَمَسْجِدِ مِصْرَ وَمَاشَاکَلَ ذٰلِکَ وَرَبُّمَا دَلَّتْ عَلیٰ عُلَمَاءِ جِھَاتِھِمْ اَوْ مُلُوکِھِمْ اَوْ نُوَّابِ مُلُوْکِھِمْ(تعطیر الانام زیر لفظ مسجد۔جلد دوم )یعنی رؤیا میں مسجد دیکھنے سے مراد کبھی و ہ جہت ہوتی ہے اوراس طرف جانامراد ہوتاہے۔جیسے مسجد اقصیٰ کو دیکھنا یامسجد حرام کو دیکھنا یامسجد دمشق یامسجد مصر کو دیکھنا۔اورایسے ہی اورمساجد کودیکھنا اور کبھی مسجد سے مراد وہاں کے علما ء یابادشاہ یاگورنر ہوتے ہیں۔آنحضرت ؐ کے حق میں تعبیر کس طرح پوری ہوئی اب میں ایک ایک کرکے ان معنو ں کولیتاہوں کہ وہ کس طرح اورکس دلیل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پورے ہوئے۔پہلی تعبیر میں نے یہ کی تھی کہ مسجد اقصیٰ سے مراد اس جگہ مسجد نبوی ؐ ہے۔اوریروشلم سے مراد مدینہ ہےاور ادہر جانے سے مراد آپ کی ہجرت ہے۔اوراللہ تعالیٰ نے سُبْحٰن کہہ کر اس رؤیا کا ذکرکیا ہے جس سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ہجرت اللہ تعالیٰ کی سُبوحیت کااظہارکرنے والی ہوگی۔یہ سبحان کالفظ بھی بتاتا ہے کہ اس نظارہ میں ایک پیشگوئی تھی کیونکہ ظاہر میں بیت المقدس کودیکھنے سے سبوحیت ثابت نہیں ہوتی۔لیکن مدینہ میں جاکر اسلامی حکومت کاقیام چونکہ بہت سی ان پیشگوئیوں کوپوراکرنے والاتھا جوقرآن کریم میں بیان ہوچکی تھیں۔اس واقعہ سے بے شک اللہ تعالیٰ کی سبوحیت ظاہر ہوئی تھی اوراب تک ہورہی ہے۔غرض سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى کہہ کرفرمایاکہ پا ک ہے وہ جولے جائے گا اپنے بندہ کو راتوں رات مسجداقصیٰ یعنی اسی کے مشابہ ایک مسجد کی طرف تاکہ وہ پیشگوئیاں پوری ہوں جن کے لئے ہجرت کرنی ضروری ہے۔اوراللہ تعالیٰ دنیا کو دکھادے کہ کس طرح اس کی بات پوری ہواکرتی ہے۔مثلاً جنگ و جہاد وغیرہ کی خبریںجوہجرت کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں۔پھرا سلامی حکومت کی خبر وغیرہ وغیرہ۔لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا میں بھی ہجرت کی طرف اشارہ ہے لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا بھی اسی امر پردلالت کرتا ہے کہ