تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 278
حدیث کی بناء پر اورابن کثیر نے انس کی روایت کو جن الفاظ میں نقل کیا ہے۔اس کی بنا ء پر یقین سے کہاجاسکتا ہے کہ اس روایت میں بھی پہلے پانی۔پھر شراب پھردودھ کا ذکر ہے مگر بعض نسخوں میں الٹ لکھا گیاہے۔پس میں اس روایت کے جومعانی بیان کروں گا۔ان میں اس امر کومدنظررکھوں گا کہ اس روایت میں بھی پہلے پانی پھر شراب اورپھر دودھ کا ذکر ہے اوراس کے الٹ جولکھا گیاہے وہ کسی نسخہ میں کتابت کی غلطی کی وجہ سے سہواً لکھا گیا ہے۔ابن کثیر کی تصدیق دُرّمنثورسے بھی ہوتی ہے۔اس میں بھی اس روایت کو بیان کرتے ہوئے پہلے پانی پھر شراب پھر دودھ کے پیش کئے جانے کا ذکر ہے۔جیساکہ میں نے اوپر بیان کیا ہے یہ روایت نہایت صحیح ہے اوراس کے صحیح ہونے کی اندرونی شہادت موجود ہے۔اوروہ شہادت یہ ہے کہ ا س میں ذکر ہے کہ پہلے آپ نے ایک بڑھیا دیکھی پھر شیطان دیکھا پھرانبیاء کی جماعتوں کو دیکھا اس کے بعد بیت المقدس پہنچے۔پھرپانی اورشراب اوردودھ تین چیزیں آپ کے سامنے پیش کی گئیں۔رسول ا للہؐ نے پانی اورشراب کے قبول کرنے سے انکار کردیااوردودھ کولے لیا۔اس پر جبرائیل نے کہا آ پ نے صحیح فطرت کوپالیا۔اگرآپ پانی پیتے توغرق ہوجاتے اورآپ کی امت بھی غرق ہوجاتی۔اگرشراب پیتے توآپ گمراہ ہوجاتے اورآپ کی امت بھی گمراہ ہوجاتی۔اورآپ نے جودودھ لیا ہے گویاآپ فطرت صحیحہ کے راستہ پر چل پڑے۔پھر وہ ان نظاروں کی تعبیر کرتے ہیں جوپہلے دیکھے تھے اورکہتے ہیں کہ وہ عورت دنیا تھی۔جس نے آپ کوبلایا۔اس کے بعدراستہ سے ہٹ کر کھڑاہواشخص جس نے آپ کو بلایا ابلیس تھا۔اس کے بعد جنہوں نے سلام کیا وہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔اسراء میں پانی ،دودھ اور شراب پیش کئے جانےکی تعبیر ان تعبیروں کو دیکھو کہ کیسی صحیح ہیں اورقرآن کریم کے مطابق ہیں۔پانی دنیا کاقائم مقام ہے کیونکہ پانی سے حیات ہوتی ہے۔جیسے فرمایا وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ۔(الانبیاء :۳۱) پانی جب لَبن کے مقابل میں آئے تواس سے مراد دنیا کی مال و دولت ہوتی ہے۔اور شراب شیطانی کاموں پر دلالت کرتی ہے جیسے فرمایا۔اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ۔(المائدہ :۹۱)۔دودھ ماں کی چھا تی سے بنتاہے اس میںکسی غیر چیز کی ملونی نہیں ہوتی اس لئے وہ فطرت صحیحہ پردلالت کرتا ہے۔اس روایت کے واقعات میں طبعی ترتیب ہے اب دیکھو اس میں کیسی ترتیب نظرآتی ہے۔پھر تعبیر نہایت صاف اورصحیح ہے۔پہلے آپ نے عورت کودیکھا تھا۔اوراس کی تعبیر جبرائیل علیہ السلام نے دنیا بتائی تھی۔اس کے مقابل پر پہلے پانی کا پیالہ پیش کیا گیا۔اوراس کی تعبیر بھی دنیا ہی کی گئی۔قرآ ن کریم میں بھی پانی کو دنیا سے تشبیہ