تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 273
کا ذکرآتاہے اورمعراج میں بھی۔اسراء بیت المقدس میں بھی نماز پڑہانے کا ذکر آتا ہے اورمعراج میں بھی۔اسراء کی بعض روایتو ں میں بھی دوزخ جنت کے بعض نظارے دیکھنے کا ذکر آتاہے اورمعراج کے واقعہ میں بھی۔غرض نام اورکام کی تفصیلات میں ایک حد تک اشتراک پایاجاتاتھا اور روحانی عالم کے عجیب وغریب نظاروں کا ذکر تھا۔اس لئے بعض راویوںکے ذہنوں میں خلط ہوگیا اورانہوں نے دونوں واقعات کوایک ہی سمجھ کر ملاکربیان کرناشروع کردیا۔لیکن جن کاحافظہ زیادہ مضبوط تھا انہوںنے اگرمعراج کاواقعہ صحابی سے سناتھا توروایت شرو ع ہی اس طر ح کی کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے اٹھاکر آسمان کی طرف لے جایاگیا۔اوراگرانہوں نے صحابی سے اسراء بیت المقدس کاواقعہ سناتھا توانہوں نے بیت المقدس تک کاواقعہ بیان کیا۔آگے آسمان پر جانے کا ذکرنہیں کیا۔معراج اور اسراء دونوں کو صحابہ اسراء کے نام سے پکارتے تھے اس کاثبوت کہ دونوں واقعات کوصحابہ میں اسراء کے نام سے پکاراجاتاتھا۔احادیث سے مل جاتا ہے۔مسند احمد بن حنبل۔بخاری۔مسلم اورابن جریر میں مالک بن صعصہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔اَنَّ نَبِیَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدَّثَھُمْ عَنْ لَیْلَۃٍ اُسْرِیَ بِہٖ۔قَالَ بَیْنَـمَااَنَا فِی الْحَطِیْمِ وَرُبَّـمَا قَالَ قَتَادَۃُ فِی الْحِجْرِ مُضْطَجِعٌ اِذَااَ تَانِی آتٍ فَجَعَلَ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ الْاَوْسَطِ بَیْنَ الثَّلَاثَۃِ فَاَتَانِی فَشَقَّ مَابَیْنَ ھٰذِہٖ اِلٰی وَھٰذِہٖ یَعْنِیْ مِنْ ثُغْرَۃِ نَحْرِہٖ اِلَی شِعْرَتِہٖ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِیْ فَاُتِیْتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مَمْلُوْءَ ۃٍ اِیْمَانًا وَحِکْمَۃً فَغُسِلَ قَلْبِی ثُمَّ حُشِیَ ثُمّ اُعِیْدَ ثُمَّ اُتِیْتُ بِدَآبَّۃٍ دُوْنَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ یَقعُ خَطْوُہٗ عِنْدَ اَقْصٰی طَرْفِہٖ فَـحُمِلْتُ عَلَیْہِ فَانْطَلَقَ بِیْ جِبْرِیْلُ حَتّٰی اَتَی بِیَ السَّمَآءِ الدُّنْیَا۔الخ۔(مسند احمد بن حنبل مسند الشامیین حدیث مالک بن صعصعۃ ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کاواقعہ ایک دفعہ ہمیں سنایا۔آپ نے فرمایا ایک دفعہ میں حطیم میں سورہاتھا (خانہ کعبہ کاوہ حصہ جوعمارت سے باہرچھوڑاہواہے۔مگر طواف کے وقت اسے بھی طواف میں شامل رکھا جاتاہے)قتادہ جو تیسرے راوی ہیں ان سے اگلاراوی کہتا ہے کہ اب مجھے یہ یاد نہیں کہ قتاد ہ نے حطیم کالفظ بولاتھا یا حجر کا(یہ بھی اسی کانام ہے)خیرتورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں وہاں دوآدمیوں کے ساتھ سورہاتھا کہ میرے پاس ایک شخص آیا اوراپنے ایک ساتھی سے کہنے لگا کہ ان تین سونے والوں میں سے جودرمیان میں سورہاہے وہ ہے۔اس پر وہ آگے بڑھا اور میرے اس حصہء بدن سے اس حصہ بدن تک اس نے ایک شگا ف دیا۔آپ نے اس کے ساتھ جگہ بتانے کے لئے دونوں ہنسلیوں کے درمیان کی نرم جگہ سے لے کر ناف کے نیچے تک