تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 272

کا ذکر آتاہے اوروہاں سے پھر مکہ واپس آنے کا ذکر ہے۔(اَخْرَجَہٗ ابْنُ اَبِی حَاتَمٍ عَنْ اَنَسٍ منقول ازخصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ ۱۵۴) آسمان سے واپسی پر بیت المقدس سے ہوکر آناخلاف عقل ہے اب ہر عقلمند سمجھ سکتاہے کہ بیت المقدس ہوتے ہوئے آسمان پرجاناتوعقل میں آبھی سکتا تھا۔کیونکہ اس میں یہ مفید غرض تھی کہ آپ اس مقام پر نماز پڑھ لیں جہاںنبیوں کی ایک بڑی جماعت نے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایاتھا۔مگرجب آپ اس سے فارغ ہوگئے اورآسمان پرتشریف لے گئے توپھر وہاں سے واپسی کیوں بیت المقدس کوہوئی اورکیوں بیت المقدس لاکر آپ کو واپس مکہ پہنچایاگیا۔اگرواپسی کے وقت بھی کوئی ایساکام بتایاجاتا جو آپ نے بیت المقدس میں کیا تب تو بات سمجھ میں آسکتی تھی کہ وہ کام رہ گیا تھا۔اس لئے آپ کو پھر بیت المقد س لایا گیا۔لیکن کسی ایک روایت میں بھی آسمان سے واپسی پر بیت المقدس میں آپ کے کسی کام کے کرنے کا ذکر موجود نہیں۔پھر اس تکلیف دہی کی غرض کیاتھی۔اگرتویہ تسلیم کیا جائے کہ آسمان کوراستہ ہی بیت المقدس سے جاتا ہے اوروہاں کوئی سیڑھی لگی ہوئی ہے تب تو یہ سمجھ میں آسکتاتھاکہ مجبوراً آپ کو وہاں اتارنا پڑا۔لیکن اگریہ بات نہیں ہے اورہر مسلما ن کاعقیدہ یہی ہے کہ ایسانہیں ہے کیونکہ آسمان کی طرف صعود سیڑھیوں کا محتاج نہیں ہے توپھر واپسی کے وقت بغیرکام کے بیت المقدس میں آپ کو اتار نا اورپھر مکہ کی طرف لا نا بالکل خلاف عقل ہے۔میرے نزدیک اس کی ایک ہی تاویل ہوسکتی ہے کہ حضرت انس ؓ نے معراج کا اوراسراء الیٰ بیت المقدس کاواقعہ سنایا ہے راویوں میں سے کسی راوی کے ذہن میں دونوں مضمونوں کا خلط ہوکر ایک واقعہ بن گیا۔ادھر اسے اچھی طرح یا دتھاکہ اسراء کی روایت میں حضرتؐ نے بیت المقدس جانے کابھی اوروہاںسے آنے کابھی ذکرکیا تھا۔اس وجہ سے اس نے مجبوراً یہ سمجھا کہ معراج میں آسمان سے واپسی کے وقت آپ بیت المقدس ہی میں اترے تھے اوروہاں سے پھر مکہ تشریف لے گئے تھے۔اسراء اور معراج کے واقعات میں خلط اورا س کی وجہ اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر خلط ہواکیونکر ؟اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں خواہ آسمان پر جانے کا ذکر ہو یا زمین پر سفرکرنے کا اگر رات کو کوئی سفر ہوتو اسے اسراء کہیں گے(اقرب)۔اس وجہ سے معراج کے متعلق بھی اسراء کالفظ بولاجاتاتھا اوربیت المقد س کی طرف جانے کے واقعہ کے متعلق بھی اسراء کالفظ استعمال کیاجاتا تھا کیونکہ یہ دونوں واقعات رات کے وقت ہوئے تھے۔اب ادہر دونوں کے لئے اسراء کالفظ بولاجاتا تھااورادہر ان دونوں نظاروں کی کئی باتیں آپس میں ملتی جلتی تھیں۔مثلاً یہی کہ اس میں بھی براق کا ذکر آتا ہے اوراس میں بھی۔اسرا ء بیت المقدس میں بھی انبیاء سے ملنے