تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 271

گذرا۔اورجن کے سامنے سب سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا ذکرکیا (بخاری کتاب الصلوٰۃ ، مسلم کتاب الایمان باب اسراء برسول اللہ،الخصائص الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۱۵۴ تا ۱۵۹ و ۱۷۶ تا ۱۷۹، العصابۃ باب الکنی حرف الذال والعین)۔اس بار ہ میں سب راویو ںکی روایات درج کر نا تومشکل ہے۔بعض روایات بیان کر دیتا ہوں۔حضرت امّ ہانیؓ کہتی ہیں کہ اسرا ء کی صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔امّ ہانی میں نے عشاء کی نما زتم لوگوں کے ساتھ پڑھی۔پھر میں بیت المقدس گیا اوروہاں نماز پڑہی۔اورپھر اب تم لوگوں کے ساتھ صبح کی نماز پڑھ رہاہوں(الخصائص الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۱۷۷)۔حضرت عائشہ ؓ کی روایت یہ ہے کہ جب اسراء کاواقعہ ہو ا۔لوگ دوڑے دوڑے حضر ت ابو بکرؓ کے پا س آئے اوران سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے آپ کادوست کیاکہتا ہے۔انہوں نے کہا کیاکہتا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ وہ کہتاہے کہ میں رات بیت المقدس تک ہوکر آیا ہوں اگر معراج کا ذکر ساتھ ہی آپؐ نے کیا ہوتا توکفار اس حصہ پر زیادہ شور کرتے۔مگرانہوں نے صرف یہ کہا کہ آنحضرت صلعم فرماتے ہیں کہ میں رات کو بیت المقدس تک گیاتھا۔پھر جب حضرت ابوبکرؓنے آنحضرت صلعم کی تصدیق کی۔تولوگوں نے کہا۔کیا آپ اس خلاف عقل بات کو بھی مان لیں گے۔توحضرت ابوبکرؓ نے کہا میں تواس کی یہ بات بھی مان لیتاہوں کہ صبح و شام اس پر آسمان سے کلام اترتا ہے (الخصائص الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۱۷۶)۔اس جواب سے بھی صاف ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے ساتھ آسمان پر جانے کاکوئی ذکر نہ تھا۔ورنہ آسمان پر خود آنے جانے سے کلام کاآناجانا کسی صورت میں بھی زیادہ عجیب نہیں کہلاسکتا۔اوراس صورت میں حضرت ابوبکرؓکبھی بھی وہ دلیل نہ دے سکتے تھے جو انہوں نے دی۔اورنہ اس جواب کو سن کر معترض چاموش ہوسکتے تھے۔وہ ضرور جواب دیتے کہ تمہارے آقاتوخود آسمان پر جانے کادعویٰ کررہے ہیں اور تم آسمان سے الہام آنے کا اس خبرسے مقابلہ کررہے ہو۔مگرانہوں نے بھی آگے سے ایسا نہیں کہا۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بیت المقد س تک جانے کا ذکرکیاتھا۔آسمان پرجانے کا اس واقعہ کےساتھ کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔عبداللہ بن مسعو دؓ کی روایت میں بیت المقدس میں انبیاء کو نماز پڑھانے کے ذکرکے بعد یہ الفاظ ہیں ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَاَقْبَلْنَا۔پھر ہم وہاں سے آگئے اورمکہ کی طرف چل پڑے۔(خصائص ص ۱۶۲ جلد اول) چوتھاشاہد واقعا ت سے اس امر کاکہ واقعہ اسراء الگ واقعہ ہے یہ ہے کہ بعض روایتوں میں جن میں بیت المقدس جانے کے بعد آسمان پر جانے کا ذکر کیا گیاہے وہاں سے واپسی کے وقت بھی بیت المقدس میں اترنے