تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 267

سال پہلے یہ واقعہ پیش آیاتھا۔نیز بیہقی نے سعدی سے روایت کی ہے کہ ہجر ت سے کوئی چھ ماہ پہلے یہ واقعہ پیش آیاتھا۔(دونوں روایات خصائص جلد اول کے صفحہ ۱۶۲پرمذکور ہیں)نیز ابن سعد نے حضرت ام سلمہ ؓسے روایت کی ہے کہ یہ واقعہ ایک سال ہجرت سے پہلے سترہ ربیع الاول کو پیش آیا تھا۔ان سب روایا ت سے یہ امریقین کے مرتبہ تک پہنچ جاتاہے کہ اسرا ء کاواقعہ ہجرت سے چھ ماہ یاایک سال پہلے گزراہے۔اس کے علاوہ اورثبوت بھی اس امر کی تائید میں ہیں کہ یہ واقعہ شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعدکاہے۔اورشعب ابی طالب میں آپ اورآپ کے ساتھی ساتویں سال بعد نبوت میںداخل ہوئے تھے اوردسویں سال میں وہاںسے نکلے تھے(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ذکر حصر قریش رسول اللہ و بنی ہاشم فی الشعب)۔اوروہ ثبوت یہ ہے کہ حدیث اسراء کے متعلق ایک ہی موقعہ کاگواہ ہے۔اوروہ امّ ہانی ؓ آپ کی چچازاد بہن ہیں جو ابوطالب کی بیٹی تھیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جس رات یہ واقعہ ہواہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرماتھے (خصائص الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۱۷۱)۔اوربہت سے صحابہؓ نے بھی یہی بیان کیا ہے کہ آپؐ اس رات امّ ہانی کے مکان پر تھے۔اورظاہر ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی یاابوطالب کی زندگی میں آ پ امّ ہانی کے گھر میں نہیں رہ سکتے تھے۔پس امّ ہانی کے گھرمیں آپ کاان ایام میں رہنا بھی بتاتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت خدیجہ اورابوطالب کی وفات کے بعد کا ہے۔اوران دونوں کی وفات بھی ۱۰ ؁بعد نبوت میں ہوئی ہے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام وفاۃ ابی طالب و خدیجۃ)۔پس اس شہادت سے بھی یہی استنباط ہوتاہے کہ یہ واقعہ گیارہویں ، بارہویں سال بعدنبوت کا ہے۔واقعہ معراج نبوت کے پانچواں سال کا ہے اور اسراء گیارہویں کا خلاصہ یہ کہ تاریخ۔احادیث اورعقلی استدلال سب اس ا مر کی تائید میں ہیں کہ اسرا ء کاواقعہ گیارہویں بارہویں سال بعد نبوت کا ہے۔اورپہلے میں یہ ثابت کرچکا ہوں کہ معراج کاواقعہ پانچویں سال بعد نبو ت سے پہلے کاہے۔پس جب ان دونوں واقعات کی تاریخوںمیں چھ سات سال کا فرق ہے توانہیں ایک واقعہ کہنا کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔اورحق یہی ہے کہ معراج کاواقعہ اَورہے اوربیت المقدس کی طرف جانے کاواقعہ بالکل اَورہے۔معراج اور اسراء کے الگ الگ وقت میں ہونے کا ایک ثبوت علاوہ تاریخی شواہد کے ایک اَورامر بھی میرے اس استدلا ل کی تائید میں ہے اوروہ یہ ہے کہ حدیث معراج سے ثابت ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت