تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 22

وَّ الْخَيْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِيْنَةً١ؕ وَ اور(اس نے )گھوڑوں اورخچروں اورگدھو ںکو(بھی )تمہاری سوار ی کے لئے اور(نیز)زینت(وشان )کے لئے يَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۹ (پیدا کیاہے )اور (آئندہ بھی )وہ (تمہارے لئے سوار ی وغیرہ کا مزید سامان)جسے تم (ابھی)نہیں جانتے پیداکریگا۔حلّ لُغَات۔اَلْـخَیْلاَلْـخَیْلُ جَمَاعَۃُ الْاَفْرَاسِ۔گھوڑے۔خیل کالفظ جمع ہی استعمال ہوتاہے۔اس کامفرد نہیں آتا۔(اقرب) البِغَال۔اَلْبِغَالُ اَلْبَغْلُ کی جمع ہے اوراَلْبَغْلُ کے معنے ہیں حَیَوَانٌ اَھْلِیٌّ لِلرُّکُوْبِ وَالْحَمْلِ اَ بُوْہُ حِمَارٌوَاُمُّہُ فَرَسٌ۔خچر۔وَیتَوَسَّعُ فِیْہِ فَیُطْلَقُ عَلٰی کُلِّ حَیَوَانٍ اَ بُوْہٗ مِنْ جِنْسٍ وَاُمُّہُ مِنْ اٰخَرَ۔اس جانور پر بھی یہ لفظ اطلاق پاتاہے جس کے ماں اورباپ دومختلف جنسوں سے ہوں یعنی دوغلا۔(اقرب) الحَمِیْر۔اَلْـحَمِیْرُحِمَارٌ کی جمع ہے اس کے معنے ہیں گدھے۔اس کے علاوہ حِمَارٌ کی جمع اَحْمِرَۃٌ وَحُـمُرٌ بھی آتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔زِیْنَۃً۔زینت سے یہاں مراد خالی زینت نہیں۔کیونکہ پہلے وَ لَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ فرماچکا ہے۔اس سے وہ زینت مراد ہے جو لِتَرْکَبُوْھَاکے ساتھ تعلق رکھتی ہے یعنی طاقت۔قوت۔شوکت اور دبدبہ کا اظہار۔گھوڑ ے۔خچریں اورگدھے جنگی قوموں کو طاقت کا مظاہر ہ کرنے میں مدد دیتے ہیں اوریہاں زینت سے یہی مراد ہے۔زِيْنَةً پر نصب اس لئے آئی ہے۔کہ یہ خَلَقَ کامفعول لہٗ ہے۔انسانوں کے نفع کے لئے دو قسم کی چیزوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا دو قسم کی چیزیں تمہارے واسطے پیداکی ہیں۔(۱)وہ جن سے تم کو غذاملتی ہے تم ان کا گوشت کھاتے اوردودھ پیتے ہو۔ان سے گرمی سردی سے بچائو کا ساما ن حاصل کرتے ہو اوروہ تمہارے لئے لوگوں میں عزت و فخر کاموجب ہوتے ہیں۔اورپھر و ہ تمہارے بوجھ اٹھاکر دوسرے شہروں تک پہنچاتے ہیں جیسے اونٹ گائے وغیرہ یہ جانور اہلی زندگی میں کام آنے والے ہیں۔(۲)دوسری وہ چیزیں ہیں جو تمہاری جنگی اورسیاسی زندگی میں کام آتی ہیں۔کیونکہ ان سے جنگ وغیرہ میں