تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 21
اپنے اند ر فخر محسوس کرتاہے۔وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ اورو ہ تمہارے بوجھ اُٹھا کر اس (دور کے)شہر تک بھی لے جاتے ہیں جہاں تک تم اپنی جانوں کو مشقت میں ڈالے الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌۙ۰۰۸ بغیر نہیں لے جاسکتے۔تمہارا رب یقیناً (تم پر)نہایت شفقت کر نے والا (اور)بار بار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔شِقّ شِقٌّکے معنے ہیں اَلْمَشَقَّۃُ۔مشقت۔(اقرب) رَءُوْفٌ:رَءُوْفٌ رَأَفَ (یَرْأَفُ وَرَ إِفَ یَرْأَفُ رَأْفَۃً)سے مبالغہ کا صیغہ ہے اوررَأَفَ اللہُ بِکَ کے معنے ہیں رَحِمَ اَشَدَّالرَّحْمَۃِ۔کہ اللہ نے تجھ پر بہت رحمت کی (اقرب) رأفت کے معنے رحم کے ہوتے ہیں۔اس کے استعمال کو دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ رأفت محبت والے جذبہ کوکہتے ہیں۔رحم کے موجبات کئی ہواکرتے ہیں۔لیکن کسی کی تکلیف اوردکھ کو دیکھ کر دل میں جوہمدردی اور محبت پیداہوتی ہے۔اُسے رأفۃ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے لئے رءوف کے لفظ کے استعمال کا مطلب پس خدا تعالیٰ کے رء وف ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ دکھو ں کونہیں دیکھ سکتا۔اس لئے اس نے مخلوق کوتکلیف سے بچانے کے لئے ہرقسم کی آرام دہ چیزیں بنادی ہیں۔تفسیر۔جسمانی سفر کا ذکر کر کے روحانی سفر کی طرف اشارہ یہ جانور تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں اوروہاں لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر تکلیف کے نہیں پہنچ سکتے تھے۔یعنی یہ نہ ہوتے تو بوجھ اٹھاکرچلنا پڑتا اورتکلیف میں پڑتے۔پھرسوچو کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے جسمانی سفرکے لئے اس قدرسامان سہولت پیداکئے ہیں۔توکیوں وہ روحانی سفر کے لئے سامان پیدانہ کرے گا۔اور تم ان روحانی سامانوں کو دیکھ کرکیوں یہ کہنے لگ جاتے ہوکہ انسان جیسے حقیر وجود کے لئے خدا تعالیٰ یہ کام کس طرح کرسکتا تھا۔تم خدا تعالیٰ کی بڑائی کاراگ اس موقعہ پر محض بہانہ سازی سے الاپتے ہو۔لیکن یہ بھول جاتے ہو کہ وہ بڑی شان والا بھی ہے مگر ساتھ رؤوف اوررحیم بھی تو ہے۔علو شان والے وجود جب رءوف ورحیم بھی ہوں توکمزوروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں اوراس میں ان کی ہتک نہیں ہوتی بلکہ ان کی شان کااظہار ہوتاہے۔