تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 20

تُرِیْحُوْنَ۔تُرِیْحُوْنَ اَراحَ سے مضارع جمع مخاطب کاصیغہ ہے اور ارَاحَ الرَّجُلُ (اِرَاحۃً وارَاحًا )کے معنے ہیں رَاحَتْ عَلَیْہ اِبِلُہٗ وغَنَمُہٗ وَمَالُہ وَلَایَکُوْنُ ذَالِکَ اِلَّا بَعْدَالزَّوَالِ۔اس کے جانور(اونٹ۔بکریاں وغیرہ)شام کو چر کرآگئے۔اوراَرَاحَ الْاِبِلَ والغَنمَ کے معنے رَدَّھَااِلی الْمُرَاحِ کے بھی ہیں۔یعنی انہیں ان کے تھانوں کی طرف واپس لوٹایا(اقرب)پس تُرِیْحُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ تمہارے پاس تمہارے جانورشام کو چر کرآتے ہیں یاتم شام کو جانورچراکر واپس لاتے ہو۔تَسْرَحُوْنَ۔تَسْرَحُوْنَ۔سَرَحَ (یَسْرَحُ سَرْحًا)سے مضارع جمع مخاطب کاصیغہ ہے۔اورسَرَحَ الرَّاعِی الْمَوَاشیَ کے معنے ہیں۔اَسَامَھَااَیْ اَرْسَلَھَا تَرْعٰی۔جانورکو چرنے کے لئے چھوڑ دیا۔(اقرب)پس تَسْرَحُوْنَ کے معنے ہوں گے تم جانوروں کو چرنے کے لئے چھوڑتے ہو۔تفسیر۔یعنی یہ جانو ر تمہا ری عزت اوربڑائی کاموجب بھی ہوتے ہیں۔تم فخر کرتے ہو کہ میرے پاس اس قدر بھینسیں ہیں۔اس قدر گائیں گھوڑے اونٹ بکریاں ہیں۔غرض ان کو اپنی عزت کا ذریعہ بناتے ہو۔پھر سوچوتو سہی کہ تم اپنی چیزوں کو جو تمہاری مخلوق بھی نہیں اپنے لئے جمال کاموجب بناتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ خیا ل کرتے ہو کہ انسان کو پیداکرکے وہ اسے یوں ہی چھو ڑ دے۔حتّٰی کہ وہ اس کی سبوحیت کی بجائے اس پر اعتراض کرے اور بجائے اس کے کہ اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی اعلیٰ شان ظاہر ہو اس کی پیدائش موجب اعتراض بن جائے۔تم کیوں خیا ل نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ جو خالق ہے وہ بھی یہی چاہے گاکہ اس کی مخلوق اس کے لئے جمال کاموجب ہو یعنی اعلیٰ اخلاق اوردین والی ہو۔جس کودیکھ کر انسان محسوس کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی اعلیٰ مخلوق پیداکی ہے۔آیت میں شام کو جانوروں کے آنے کا ذکر ان کو صبح چرنے کے لئے چھوڑنے سے پہلے کرنے کی وجہ یہاں تُرِیْحُوْنَ یعنی شام کو جانوروں کے آنے کا ذکر پہلے کیاگیا ہے اورتَسْرَحُوْنَ یعنی صبح کو انہیں چرنے کے لئے بھیجنے کا ذکر بعد میں کیاگیا ہے۔حالانکہ جانو ر پہلے گھر سے جاتاہے اورپھر شام کو واپس آتاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ جمال کا ذکر ہے اورجانوروں کے صبح گھر سے نکلنے کی نسبت شام کو گھر آنے کی حالت میں جمال زیادہ ہوتاہے۔کیونکہ شام کو کھلا پھرنے اورپیٹ بھر کرگھاس کھالینے کے بعد وہ تروتازہ نظر آتے ہیں۔نیز اس لئے بھی کہ صبح جب جانور جاتے ہیں توانسان کے دل میں خطر ہ ہوتاہے کہ کوئی جانور کھویا نہ جائے۔یاکوئی درندہ اُسے نہ پھاڑ کھائے۔مگر جب شام کو جانورصحیح سلامت گھر کی طرف لوٹتے ہیں توانسان کادل مطمئن ہو جاتا ہے اوروہ ان کو دیکھ کر