تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 227
فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ پس جو حلال (اور)طیب (مال)اللہ(تعالیٰ)نے تمہیں دیا ہے تم اس میں سے کھائو اوراللہ (تعالیٰ)کی نعمت کا اگر تم اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ۰۰۱۱۵ اسی کی عبادت کرتے ہو شکر کرو۔تفسیر۔پہلی آیت میں کفارکے لئے بھوک اورخوف کے عذاب کی خبر دی تھی۔اب اس آیت میں مومنوں کے لئے فراخیِ رزق اورفراغتِ بال کی خبر دی۔اورفرمایاکفار کا رزق چھینا جائے گا۔مسلمانوں کابڑھایا جائے گا۔مگرایک فرق بھی ہوگاکہ کفار توجائز ناجائز سب ذرائع سے مال کما تے تھے۔مسلمانوں کو حلال رزق ملے گا جو طیب بھی ہو گا۔یعنی صحتوں کو اچھاکرنے والا ہوگا۔اس میں خوف کی بھی نفی کی۔کیونکہ کھانا جسم کوتبھی فائدہ پہنچاتاہے جب غم اورخوف نہ ہو۔پس طیب رزق یعنی جسم اوردماغ اوردل کو تقویت اورصحت بخشنے والے کھانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے دلوں کو غم اورخوف سے اللہ تعالیٰ نجات دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کاشکر کروکے الفاظ میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ تم کو بافراغت کھانا اورمطمئن دل عطافرمائے ہیں۔پس اس ظاہری باطنی نعمت کے بدلہ میں اللہ تعالی کا شکراداکرو۔خدا تعالیٰ کے لئےشکر ادا کرنے پر ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض لوگ شکر پر اعتراض کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو کسی کے شکر کی کیا احتیاج ہے ؟ اول تویہ اعتراض فضول ہے کیونکہ شکر ایک طبعی اظہار ہے جو ہراحسان کے بعد شریف آدمی کادل اپنی ممنونیت بتانے کے لئے کرتاہے۔اس کے پیدا ہونے میں ضرورت یاعدم ضرورت کا کوئی سوال ہی نہیں۔دوسرے جیساکہ اس آیت میں بتایا گیاہے شکرسے توحید کاعقیدہ مضبوط ہوتا ہے۔جس طرح ظاہر جسم کوایک ہی قسم کاکام کرنے سے عادت پڑ جاتی ہے اسی طرح قلب اوردماغ کو بھی متواترہونے والے سے اعمال کی عادت پڑ جاتی ہے۔پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بجالاتے رہتے ہیں ان کے دماغ پراوردل پر ایک مستقل اثر باقی رہ جاتا ہے۔اورہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کے وہ عادی ہوجاتے یں۔اورمشرکانہ خیال سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔