تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 226

خوف اورقحط سے جاتارہے گا۔کیونکہ ساکنین مکہ کے اعمال انہیں فضل الٰہی سے محروم کررہے ہیں۔یہ دونوں عذاب ہجرت کے بعد مکہ والوں پر آئے۔خوف توجنگوں کالازمی نتیجہ ہے۔بھوک کاعذاب بھی آیا جبکہ ان کے کئی قافلے مسلمانوں کے ہاتھ پڑے اوران کی ضرورتوں کے سامان جنگوں میں ان کے ہاتھو ںسے چھین لئے گئے۔عذاب کے ساتھ لباس کا ذکر لانے کی وجہ لباس کالفظ اس امر کے بتانے کے لئے استعمال فرمایا ہے کہ دونو عذاب سخت ہوںگے اور ان کے بدن پر ان کے آثار ظاہرہونے لگیں گے۔دبلے ہوجائیں گے زرد پڑ جائیں گے۔گویابھوک اورخوف کے اثرات ان کے جسم کو اس طرح ڈھانپ لیں گے جس طرح لباس جسم کو ڈھانک لیتا ہے۔وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ اوریقیناًان کے پاس انہی میں سے (ہمارا)ایک رسول آچکا ہے مگرانہوں نے اسے جھٹلایاجس پر اس حالت میں کہ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ۰۰۱۱۴ وہ ظلم کررہے تھے (ہمارے )عذاب نے انہیں آپکڑا۔تفسیر۔اس آیت میں اوروضاحت کردی ہے کہ یہاں سے مکہ والے ہی مراد ہیں۔فرمایا اس بستی والوں پر حجت پوری ہوگئی انہیں سمجھا نے کے لئے رسول آیا پھر وہ رسول بھی ان میں سے تھا باہر سے نہ تھا کہ کہہ دیتے ہم اس کے حالات سے واقف نہیں اس کے سچ اورجھو ٹ کااندازہ نہیں لگاسکتے۔مگرباوجود اس کی خیر خواہی کے اوراس کے اخلاق حمیدہ کے معلو م ہونے کے انہوں نے اس کی تکذیب کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کافیصلہ کردیا۔یہاں دوالزام ان پر لگائے ہیں۔ایک تویہ کہ خدا کے رسولؐ کا انکار کیا۔دوسرے اپنے مشاہدہ کاانکار کیا کہ باوجود رسول کریم صلعم کی صداقت سے واقف ہونے کے آپ کے دعوے کے منکر ہو گئے۔وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ میں بتایا کہ عذاب ان کے ظلم ہی کی حالت میں ان کو پکڑ لے گا۔یعنی یوں نہ ہوگا کہ ان کے اعمال کے بدلے ان کی اولاد وں سے لئے جائیں بلکہ ان کے اعمال کی سزا یہ ظالم خود ہی بھگتیں گے۔