تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 225

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً اوراللہ(تعالیٰ)نے (تمہیں سمجھا نے کے لئے )ایک بستی کا حال بیان کیا ہے جسے (ہرطرح سے )امن حاصل يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ ہے(اور)اطمینان نصیب ہے ہرطرف سے اس کارزق اسے بافراغت پہنچ رہا ہے۔پھر(بھی )اس نے اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا اللہ(تعالیٰ) کی نعمتوں کی ناشکری کی ہےاس(کی اس ناشکری) پر اللہ (تعالیٰ)نے اس(کے باشندوں)پران يَصْنَعُوْنَ۰۰۱۱۳ کے اپنے (گھنونے)عمل کی وجہ سے بھوک اورخوف کالباس نازل کیااوراس کامزہ چکھایا۔حلّ لُغَات۔ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًاکے معنوںکے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر ۲۵۔ضَرَبَ لَہٗ مَثَلًا کے معنے ہیں وَصَفَہٗ وَقَالَہٗ وَبَیَّنَہٗ مثل کو بیان کیا۔ا ور اچھی طرح سے واضح کیا۔رَغَدًا رَغَدَ عَیْشُہٗ رَغَدًا کے معنے ہیں طَابَ وَاتَّسَعَ اس کی زندگی خوشگوار اورکشادہ ہوگئی وَعَیْشَۃٌ رَغدٌ کے معنی ہیں واسعَۃٌ طَیِّبَۃٌ آسودہ زندگی۔(اقرب) اَذَاقَ اَذَاقَھَااللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ۔اَذَاقَ ذَاقَ سے بناہے۔ذَاقَ الْعَذَابَ وَالْمَکْرُوْہَ کے معنے ہیں نَـزَلَ بِہٖ فَقَاسَاہُ اس پر مصیبت نازل ہوئی اوراس نے سہی۔اَذَاقَہٗ:صَیَّرَہُ یَذُوْقُ اسے چکھایا۔(اقرب) پس اَذَاقَھَاللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ کے معنے ہوں گے اللہ نے اس پر بھوک کاعذاب نازل کیا اوراس کو اس کا مزہ چکھایا۔تفسیر۔اس آیت میں مکہ کے متعلق پیشگوئی فرمائی ہے۔اس سے پہلے کفراوراسلام کا مقابلہ کیاگیا تھا۔مگرکفار کے دل میں یہ خیال ہوسکتاتھا کہ شاید مکہ بوجہ اس تقدس کے جو اسے حاصل ہے مغلوب ہونے سے محفوظ رہے کیونکہ قریب زمانہ میں ابرہہ کے لشکرکی شکست کے ذریعہ وہ مکہ کی حفاظت کا نظارہ دیکھ چکے تھے ان کے اس جھوٹے اطمینا ن کو بھی اس آیت میں رد کر دیاگیاہے فرماتا ہے کہ مکہ بھی ایسے مجرموں کو نہیں بچاسکتا۔مکہ کاامن بھی