تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 224

تفسیر۔یَوْمَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ کاظر ف ہے۔مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب ہرشخص اپنے انجام کی اہمیت سمجھ کر پورازورلگائے گاکہ کسی طرح میں گرفتاری سے بچ جائوں اس وقت اللہ تعالیٰ ان لو گوں سے جو کمزوری دکھا کربعد میں ساری عمر اصلاح اورقربانی وغیرہ میں لگے رہیں گے غفورورحیم کاسلوک کرے گا۔آیت ارتداد سے بزدلی سیکھانے کا اعتراض کرنے والوں کو جواب جولوگ آیت ارتدادسے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میں بزدلی کی تعلیم دی گئی ہے۔ان آیات پر غور کریں کہ کتنی بڑی قربانی ایسے لوگوں سے چاہی گئی ہے۔جوشخص اس قربانی کی اہمیت کوسمجھے گا وہ امتحان کے موقعہ پر بزدلی دکھا ئے گاہی کیوں۔کیونکہ بزدل آدمی اس قدرقربانی کرنے کی طاقت کہاں رکھتا ہے کہ ترک وطن کرے۔جہا د فی سبیل اللہ کرے اوراپنے نفس کوساری عمر اس کا م میں لگائے رکھے۔ان کاموں کی توفیق تووہی پائے گاجن سے کسی عارضی غفلت کی وجہ سے غلطی ہوگئی ہو یا جوبعد میں سچی توبہ کرچکا ہو۔حضرت عمر ؐ کے زمانہ میں مرتد کا دوبارہ مسلمان ہونا حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک مرتد مدعی نبوت دوبارہ مسلمان ہوا۔اس سے جو آپ نے سلوک کیا وہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔اس شخص کانام طلیحہ ابن خویلداسدی تھا۔یہ مسلمانوں کے خلاف بعض جنگوں میں شامل ہواتھا۔کچھ عرصہ کے بعدا س نے اسلام میں داخل ہوناچاہا۔مگر حضرت عمرؓ نے اس کو معاف نہ کیا۔ایک دفعہ ایسااتفاق ہو اکہ ایک صحابی شرحبیل بن حسنہؓ(جوبظاہر بہت د بلے پتلے اورکمزور تھے مگر فنِ جنگ کے بڑے ماہر تھے )ایک لڑائی میں ایک کافر سردار کے ساتھ لڑ رہے تھے کہ اس سردار نے یہ دیکھ کرکہ تلوار کی جنگ میں مَیںان کا مقابلہ نہیں کرسکتا جلدی سے آگے بڑھ کر ان کو کمرسے پکڑ لیا اورنیچے گراکر چھاتی پر چڑھ گیا۔قریب تھا کہ وہ آپ کو قتل کردیتاکہ طلیحہ بن خویلد جو دل سے مسلمان ہوچکا تھا لیکن بوجہ حضرت عمرؓ کے توبہ قبول نہ کرنے کے اب تک کفار ہی میںشامل تھا۔اس نظارہ کو دیکھ کر اپنے ایمان کو چھپا نہ سکا اورآگے بڑھ کر اس کافر سردار پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کاسرتن سے جداہوگیا اور حضرت شرحبیلؓ کی جان بچ گئی۔اس واقعہ سے باقی مسلمان بہت متاثر ہوئے۔اورانہوں نے حضرت عمرؓ کے پاس سفارش کی کہ اسے معاف کردیاجائے۔اس پرحضرت عمرؓ نے فرمایاکہ میں اس شرط پر معاف کرتا ہوں کہ یہ شخص اپنی ساری بقیہ زندگی جہاد میں گزارے اوراسلامی مملکت کی سرحدوںپرزندگی بسر کرے۔چنانچہ وہ ہمیشہ سرحد پر ہی رہتے تھے اورکفار سے لڑائی کرتے رہتے تھے آخراسی حالت میں وفات پاگئے گواس شخص نے جان بوجھ کر ارتداد کیاتھا مگر معلوم ہوتاہے حضرت عمرؓ نے اسی آیت سے استدلال کرکے اس کے مشابہ حکم اس کو دےدیا۔