تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 223
يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ (اس جزاکاظہورخصوصیت سے اس دن ہوگا )جس دن ہرشخص اپنی جان کے متعلق جھگڑتاہواآئے گااورہرشخص نے نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۱۱۲ جوکچھ کیا ہوگا(ا س کااجر )اسے پوراپورادیا جائے گااوران پر (کسی رنگ میں بھی )ظلم نہ کیاجائے گا۔حلّ لُغَات۔تُجَادِلُ۔تُجَادِلُ جَادَلَ سے واحد مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اورجَادَلَہٗ (مُجَادَلَۃً وَ جِدَالًا) کے معنے ہیں خَاصَمَہٗ شَدِیْدًااس نے اس سے سخت جھگڑاکیا۔(اقرب) پسيَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا کے معنے ہوں گے جس دن ہرشخص اپنی جان کے متعلق جھگڑتا ہواآئے گا۔تُوَفّٰی۔تُوَفّٰی وَفّٰی(باب تفعیل)سے مضارع واحد مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اوروَفّٰی کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۱۰۵۔یَتَوَفّٰی کا مادہ وَفٰی اور ماخذ وَفَاۃٌ ہے اور یہ باب تفعّل سے فعل مضارع ہے۔وفات کے معنی موت کے ہیں اور تَوَفَّی کے معنی موت وارد کرنے اور جان نکال لینے کے ہیں۔اقرب الموارد میں ہے تَوَفّی اللہُ زَیْدً ا:قَبَضَ رُوْحَہٗ اللہ تعالیٰ نے زید کی روح قبض کرلی یا جان نکال لی۔تُوُفِّیَ فُلَانٌ مَجْہُوْلًا قُبِضَتْ رُوْحُہٗ وَمَاتَ۔تُوَفِّیَ بصیغہ مجہول کے معنی ہیں اس کی جان نکال لی گئی اور وہ مر گیا۔فَاللہُ الْمُتَوَفِّیْ وَالْعَبْدُ الْمُتَوَفّٰی۔غرض اللہ تعالیٰ مُتَوَفِّی یعنی وفات دینے والا ہوتا ہے اور انسان مُتَوَفّٰی یعنی وفات پانے والا۔اور قاموس میں ہے اَوْفٰی فُلَانًا حَقَّہٗ وَوَفَّاہُ وَوَافَاہُ فَاسْتَوْفَاہُ وَتَوَفَّاہُ وَالْوَفَاۃُ الْمَوْتُ وَتَوَفَّاہُ اللہُ قَبَضَ رُوْحَہٗ کہ جو لفظ تَوَفّی اِسْتِیْفَاء یعنی پورا پورا لینے کے معنی دیتا ہے وہ اِیْفَاءٌ تَوْفِیَۃٌ اور مُوَافَاۃٌ کا مطاوع اور لفظ وَفَی سے ماخوذ ہوتا ہے۔اور اس کا مفعول کوئی حق یا کوئی مالیت ہوتی ہے۔اور جس لفظ تَوَفّی کے معنی قبض روح کے ہوتے ہیں وہ لفظ وَفَاۃٌ سے ماخوذ ہوتا ہے۔جس کے معنی موت کے ہیں اور تَوَفَّاہُ اللہُ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کرلی۔یعنی جان نکال لی۔اور کلّیات ابوالبقاء میں ہے وَالْفِعْلُ مِنَ الْوَفَاۃِ یعنی یہ فعل لفظ وَفَاۃٌ سے ماخوذ ہے۔جس کے معنی موت کے ہیں۔