تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 222

فَتَنَہٗ کے معنے ہیں اَعْـجَبَہٗ۔وہ اس کو پسند آیا۔اَلْمَالُ النَّاسَ: اِسْتَمَا لَھُمْ۔مال نے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرلیا۔فَتَنَہٗ فِتْنَۃً:خَبَرَہٗ اس کو آزمایا۔فُلانًا: اَضَلَّہٗ اس کو گمراہ کیا۔فَتَنَ فُلَانًا عَنْ رَأْیِہٖ صَدَّہٗ۔اس کو اس کی رائے سے روکا۔فَتَنَ الصَّائِغُ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ:اَذَابَہُ وَاَحْرَقَہ بِالنَّارِ لِیُبَیِّنَ الْجَیِّدَ مِنَ الرَّدِیْءِ وَیُعْلَمَ اَنَّہٗ خَالِصٌ اَوْ مَشُوْبٌ۔سنار نے سونے کو آگ میں ڈال کر پگھلایا تاکہ اس کے کھرے اورکھوٹے کو معلوم کرے۔اورفُتِنَ الرَّجُلُ فِی دِیْنِہٖ کے معنے ہیں مَالَ عَنْہُ اپنے دین سے علیحدہ ہوگیا۔فُتِنَ فُلَانٌ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃٌ فذَھَبَ مَالُہٗ اَوْ عَقْلُہٗ اس پر مصیبت نازل ہوئی اوراس کی وجہ سے اس کامال یا عقل جاتی رہی۔وَکَذَالِکَ اِذَااخْتُبِرَ اورجب کسی کاامتحان لیا جائے تو فُتِنَ صیغہ مجہول اس کے لئے استعمال ہوتاہے (اقرب) پس فُتِنُوْاکے ایک معنے یہ ہوں گے کہ انہیں دکھ میں ڈالاگیا۔جَاھَدُوْا۔جَاھَدُ وْاجَاھَدَ سے جمع کا صیغہ ہے۔اورجَاھَدَفِی سَبِیْلِ اللہ ِ (مُجَاھَدَۃً وَجِھَادًا)کے معنے ہیں۔بَذَلَ وُسْعَہٗ اللہ کے دین کے لئے انتہائی کوشش کی۔جَاھَدَ الْعَدُوَّ۔قَاتَلَہٗ دشمن سے لڑا (اقرب) پس جَاھَدُوْا کے معنے ہوں گے (۱)انہوں نے جہاد کیا (۲)انہوں نے اللہ کے دین کے لئے کوشش کی۔تفسیر۔اِلَّامَنْ اُکْرِہَ کے ماتحت توبہ قبول کئے جانے والوں کے لئے چار شرائط اس آیت میں ان لوگوں کاحکم بتایاگیا ہے جن کو پہلے اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ کے الفاظ سے مستثنیٰ بتایا گیا تھا ان کاحکم یہ بتاتاہے کہ اگر کسی سے ایسی غلطی ہوجائے کہ وہ ظلم کی برداشت نہ کرکے ظاہراً ارتداد کرلے گو دل میں مطمئن ہو تواس کے لئے یہ حکم ہے کہ اول وہ اس مقام کوچھوڑ دے جہاں اُسے لوگوں سے دب کر ارتداد کرنا پڑا۔(۲)دوسرے وہ دین کی اشاعت میں لگ جائے اوراپنے آپ کو دین کے لئے گویا وقف کردے۔(۳)تیسرے یہ مجاہدہ بند نہ کرے بلکہ استقلال سے اس پر قائم رہے۔اوراپنے ظاہری ارتداد کے بدلہ میں دوسرے لوگوں کو ہدایت دینے کی کوشش کرے۔(۴)آئندہ اس سے پھر ایسی خطاظاہر نہ ہو۔اگر وہ ان باتوں پرعمل کرے توفرماتا ہے کہ ان سب کاموں کے کرلینے کے بعد تیرارب اس شخص کو معاف فرمادے گا۔ان قربانیوںکے بعد توبہ قبول کرنے کاحکم ہوتے ہوئے مسیحی مصنفوں کا یہ لکھنا کہ اسلام نے ظلم کے وقت ظاہری انکار کی اجازت دی ہے ان مظالم میں سے ایک ظلم ہے جومسیحی پادری اسلام پرکرتے چلے آتے ہیں۔(تفسیر القرآن از ویری جلد ۳ صفحہ ۴۷)۔