تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 221
فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۰۰۱۱۰ آخر ت میں (سب سے)زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔حلّ لُغَات۔طَبَعَ عَلَیْہِ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۷۵۔طَبَعَ الشَّیْءَ :صَوَّرَہُ بِصُوْرَۃٍ مَّا اس کی کوئی صورت یا شکل بنائی۔عَلَیْہِ: خَتَمَ مہر لگائی۔اللہُ الخَلْقَ خَلَقَہُمْ پیدا کیا۔السَّیْفَ عَمِلَہُ وَصَاغَہُ بنایا۔اَلدِّرْھَمَ نَقَشَہُ وَسَکَّہُ مضروب کیا۔(اقرب) تفسیر۔یعنی جولوگ غلط فہمی میں مبتلاہوکر دین حق کو نہیں چھوڑتے بلکہ دوسری اغراض کے ماتحت ایسا کرتے ہیں۔ان کی آنکھوں ،کانوںاوردلوں پر مہر لگ جاتی ہے کیونکہ وہ بدترین نمونہ اخلاق کاپیش کرتے ہیں۔اورایک بڑی نعمت کو محض چھوٹے سے فائدے کے لئے قربان کردیتے ہیں۔لَاجَرَمَ اَنَّہُمْ الخ۔یعنی جب ایسے شخصوںکو ہم اس دنیا میں ذلیل کریں گے تواس میں تو کوئی شبہ رہتا ہی نہیں کہ وہ آخرت میں بھی عذاب پائیں گے کیونکہ ایسے گناہوں کی سزاکا اصل مقام وہی ہے۔ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ اورتیرارب یقیناً ان لوگوں کے لئے جو دکھ میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کرگئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور(اپنے جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ عہد پر)ثابت قدم رہے (ہاں )تیرارب یقیناً اس (شرط کوپوراکرنے)کے بعد(ان کے لئے )بہت بخشنے والا رَّحِيْمٌؒ۰۰۱۱۱ (اور)باربار رحم کرنے والا(ثابت)ہوگا۔حلّ لُغَات۔فُتِنُوْا۔فُتِنُوْا فَتَنَہٗ سے مجہول کاصیغہ ہے۔اورفَتَنَ (فَتْنًاوفُتُوْنًا)زَیْدٌ عَمْرًا کے معنے ہیں اَوْقَعَہٗ فِی الْفِتْنَۃِ فَفَتَنَ ھُوَ اَیْ وَقَعَ فِیْہَا اس کو فتنہ میں ڈالا اوروہ فتنہ میں پڑگیا۔(لازم اورمتعدی دونوں طرح استعمال ہوتاہے )