تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 220
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ (اور)ایسا اس سبب سے ہوگا کہ انہوں نے اس ورلی زندگی سے محبت کرکےا سے آخرت پر مقدم کرلیا اور(نیز اس اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۱۰۸ وجہ سے )کہ اللہ (تعالیٰ) کفر اختیار کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔حلّ لُغَات۔اِستَحَبُّوْا۔اِسْتَحَبُّوْا اِسْتَحَبَّ سے جمع کاصیغہ ہے اوراِسْتَحَبَّہٗ کے معنے اَحَبَّہٗ اس سے محبت کی۔اِسْتَحْسَنَہٗ اس کو پسند کیا۔اِسْتَحَبَّ الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ کفرکو ایمان پر ترجیح دی (اقرب)پس اِسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ کے معنے ہوں گے کہ انہوں نے اس ورلی زندگی سے محبت کرکے اسے آخرت پر ترجیح دی۔تفسیر۔اسلام سے بے زاری کسی دنیوی فائدہ کے لئے ہی ہو سکتی ہے اس آیت میں یہ بتایاہے کہ اسلام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے نازل شدہ ایک صداقت ہے۔اس سے بیزارہوکر کوئی مرتد نہیں ہوسکتا۔جوہوگادنیوی اغراض سے ہوگا۔اورایساآدمی خدا تعالیٰ سے کسی نیک سلوک کاکب امیدوار ہو سکتا ہے۔اس آیت سے عبداللہ کے اس دعویٰ کورد کیا ہے کہ میں یہ دیکھ کر کہ قرآن انسانی کلام ہے مرتد ہوا ہوں۔اور بتایا ہے کہ یہ شخص ظاہر کچھ اَورکرے گامگراصل وجہ دنیاوی لالچ ہوگی۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ یہ وہ لوگ ہیں جن (کے کفر کی وجہ سے ان)کے دلوںاوران کے کانوں اوران کی آنکھو ں پر اللہ(تعالیٰ) نے مہر اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۰۰۱۰۹لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ لگادی ہے اوریہ لو گ ہی ہیں جو پکے غافل ہیں۔(اور)اس میں کوئی شک نہیں کہ وہی