تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 215
کاآٹھو یںصدی سے اوپر نہیں جاتا۔‘‘(رسول کریم صلعم چھٹی صدی میں پیداہوئے تھے )۔پھر لکھتے ہیں کہ بیا ن کیا جاتا ہے کہ دو ترجمے عربی کے تیرہویں صدی میں اسکندر یہ کے مقام پرکئے گئے تھے۔ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل کا عربی ترجمہ اس وقت تک نہ ہواتھا اورجن لوگو ںنے انجیل پڑھنی ہوتی تھی وہ عبرانی یایونانی میں پڑھا کرتے تھے۔پس یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کہ جبر عربی زبان میں تورا ت اور انجیل پڑھتا تھا اورآپ ا س سے سیکھ لیتے تھے۔وہ عبرانی یونانی زبان کے الفاظ جو اس نے رٹے ہوئے ہوں گے پڑھاکرتا ہوگا۔پس آپ زیادہ سے زیاد ہ یہ کرسکتے تھے کہ اس کے بولے ہوئے لفظوں کو یاد کرلیں۔مگراس سے آپ کو کیافائدہ ہوسکتاتھا۔آنحضرت ؐ پر کسی شخص سے سیکھنے کے اعتراض کےبعد ارتداد کا ذکر اور اس کی وجہ آخر میں ایک باریک اشارہ کوبھی واضح کردیناچاہتاہوں جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس جگہ جس اعتراض کا ذکر کیاگیا ہے وہ جبر کے متعلق تھا۔اوروہ اشار ہ یہ ہے کہ اس اعتراض کی تفصیلات کے بعد جو سب سے پہلی آیت ہے اس میں مرتدوں کا ذکرہے اورجبر کی زند گی کے ایک اہم واقعہ کا تعلق بھی ایک مرتد سے ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ جبر د ل سے مسلمان ہوگئے تھے مگر ظاہر نہ کرتے تھے۔رسول کریم صلعم جب مدینہ تشریف لے گئے تو ایک شخص کوکاتب وحی مقرر کیا جس کانام عبداللہ بن ابی سرح تھا۔یہ وہاں قرآن کریم ہی کے متعلق ایک شبہ میں پڑ کر مرتد ہوگیا۔اور جب مکہ میں آیا تولوگوں کو جبر کے مسلمان ہونے کی اطلاع دے دی۔جس کی وجہ سے سالہا سال تک ان کو سخت تکالیف دی گئیں (العصابۃ ذکر جبر)۔پس اس اعتراض کے معاً بعد آیت ارتداد رکھ کر ایک باریک اشار ہ اس طرف کیا گیا ہے کہ اس متّہم غلام پر ایک زمانہ میں ایک مرتد کی طرف سے بھی ظلم ٹوٹنے والا ہے۔آنحضرت ؐ پر کسی سے سیکھنے کے اعتراض کے جواب میں چار امور مذکورہ بالا اعتراضات کے بارہ میں بعض اور امور بھی بیان کردیتاہوں تاحسب ضرورت کام آئیں۔(۱)قرآن کریم نے کسی ایک فرقہ کو نہیں لیا۔بلکہ سب سے اختلاف کیا ہے وہ کس فرقہ کا آدمی تھا جواس کام میں آپ کی مدد کرتاتھا ؟ کیا وہ خود اپنے مذہب کے خلاف تعلیم بھی آ پ کوسکھاتا تھا ؟ (۲)قرآن کریم نے بائبل کے غلط واقعات کی اصلاح کی ہے۔یہ اصلاح کس غلام کی مدد سے آپ کرسکتے تھے۔جیسے مثلاً ہارونؑ کاشرک نہ کرنا اوردائود ؑ و سلیمان ؑ و نوح ؑ کی پاکیزگی ثابت کرنا یہ ایسے واقعات ہیں کہ آج تیرہ سوسال کے بعد یورپین مسیحی مصنف ان کے بارہ میں قرآن کریم کی تائید پر مجبور ہورہے ہیں۔