تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 214

بعض روایات میں بجائے عبرانی کے عربی کالفظ بھی ہے۔مگرہم اس روایت کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔کیونکہ اگر عربی میں تورات وانجیل ہوتی توبہت سے لوگ اس کے پڑھنے والے نکلتے۔بلکہ میرے نزدیک تویہ بھی ممکن ہے کہ عبرانی بھی راوی کی غلطی سے لکھا گیاہو۔کیونکہ اس وقت یونانی اناجیل ہی مروج تھیں اورعبرانی انجیل قریباً مفقود ہوچکی تھی۔آنحضرت ؐکے صحابہ میں سے صرف عبداللہ بن سلام ہی عبرانی جانتے تھے (۳)تیسراثبوت اس امر کا کہ تورات کا ترجمہ عربی میں نہ ہواتھا یہ ہے کہ یہودی جن کے بعض قبائل مدینہ میں آکر بس گئے تھے۔ان کے پاس بھی تورات کاعربی ترجمہ نہ تھا۔چنانچہ اگر کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی حوالہ کی ضرورت ہوتی توعبداللہ بن سلام سے آپ کومددلینی پڑتی تھی جوعبرانی جانتے تھے(مسلم کتاب الحدود باب رجم الیھود اھل الذمۃ والزنی)۔احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عمرؓ نے عبرانی پڑھنی شروع کی تھی تاکہ وہ تورات اور انجیل کو پڑھ سکیں (مشکٰوۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) (۴)چوتھے ثبوت کے طور میں ایک مسیحی مضمون نویس کی شہاد ت پیش کرتاہوں۔ڈاکٹر الگزنڈر سوٹر۔ایم۔اے۔ایل۔ایل۔ڈی۔اپنی کتاب دی ٹیکسٹ اینڈ کینن آ ف دی نیوٹسٹیمنٹ کے صفحہ ۷۴ پر لکھتے ہیں۔۱؎ 'ARABIC VERSIONS: THESE COME PARTLY DIRECTLY FROM GREEK PARTLY THROUGH SYRIAC AND PARTLY THROUGH CAPTIC۔MUHAMMAD HIMSELF KNEW THE GOSPEL STORY ONLY ORALLY۔THE OLDEST MANUSCRIPT GOES NO FURTHER BACK THAN 8TH CENTURY ------------TWO VERSIONS OF THE ARABIC ARE REPORTED TO HAVE TAKEN PLACE AT ALAXANDRIA IN THE 13TH CENTURY۔' THE TEXT & CANNON OF THE NEW TESTAMENT۔'BY۔DR۔ALEXANDER SOUTER۔M۔A۔L۔L۔D۔PAGE 74 انجیل کے عربی تراجم کے عنوان کے نیچے لکھتے ہیں :۔’’ان تراجم کے کچھ ٹکڑے توبراہ راست یونانی سے ہوئے کچھ ٹکڑے سریانی زبان سے ترجمہ ہو ئے اور کچھ قبطی زبان سے۔محمد(صلعم)بھی اناجیل کے متعلق صرف زبانی معلومات رکھتے تھے۔پرانے سے پرانا ترجمہ عربی