تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 213

غلام کے متعلق اعتراض کیا کرتے تھے۔دوسرے ایک روایت جس میں ذکر ہے کہ اس شخص سے لوگوں نے پوچھا کہ کیاتومحمد(صلعم)کوسکھاتا ہے ؟تواس نے کہاکہ نہیں۔اس میں بھی ایک ہی آدمی کا ذکر ہے۔پس خواہ دوغلام ہی اس جگہ اکٹھے کام کرتے ہوں پرشبہ معلوم ہوتاہے کہ ایک ہی کے متعلق کیاجاتا تھا۔آنحضرت ؐ کے زمانہ میں انجیل کا عربی ترجمہ نہ ہواتھا اس جگہ ایک اورسوال بھی غورطلب ہے جواس اعتراض کے متعلق ہماری صحیح راہنمائی کرسکتاہے۔اوروہ یہ ہے کہ کیا اس وقت تورات اور انجیل کے عربی تراجم ہوچکے تھے اوروہ اس قدررائج تھے کہ غلام بھی ان کو کام کے وقت پڑھاکرتے تھے ؟کیونکہ اگریہ صورت نہ ہوتوعبرانی اور یونانی کتب کی عبارتوں سے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی فائدہ اٹھاسکتے تھے اورنہ وہ غلام خود ہی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔کیونکہ عبداللہ بن سلام کے سواکسی ایک مسلمان کے متعلق بھی تاریخ سے ثابت نہیں کہ وہ عبرانی جانتا تھا(مسلم کتاب الحدودباب رجم الیہود اھل الذمة فی الزنی ) اوریونانی سے واقف کاتوتاریخ میں میرے علم میں کوئی ذکر ہی نہیں آتا۔جہاں تک میری تحقیق ہے اس وقت تک عربی زبان میں تورات اور انجیل کے تراجم نہیں ہوئے تھے۔اورجب ان کتب کے تراجم نہیں ہوئے توطالمود وغیرہ جو یہود کی روایتوں کی کتب ہیں ان کے تراجم کس نے کرنے تھے۔میرے اس خیال کی تائید مندرجہ ذیل دلائل سے ہوتی ہے۔انجیل کے تراجم کا رواج چودھویں عیسوی سے ہوا (۱)اس وقت تک انجیل کے تراجم کا رواج ہی نہ تھا۔تراجم کارواج تیرھویں چودہویں صدی سے شروع ہوا۔اوریہی وجہ ہے کہ ہمارے مفسرین جنہوں نے تفسیر میں مددلینے کے لئے ہرقسم کے علوم پڑھ ڈالے تھے جب تورات اور انجیل کے حوالے دینے بیٹھتے ہیں توبالکل بے ثبوت کہا نیاں ان کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔جن کانام و نشان بھی بائبل میں نہیں ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ ان کو عربی کی انجیل میسر نہ تھی۔اگرعربی میں تورات اور انجیل ہوتی توکیایونان کا فلسفہ اورحکمت پڑھنے والے ان کتب کو نہ پڑھتے ؟ آنحضرت ؐ کے زمانہ میں انجیل یونانی یاعبرانی میں تھی (۲)اسلامی روایات سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ اس وقت اناجیل یونانی یا عبرانی زبان میں ہی تھیں۔بخاری باب بدء الوحی میں ورقہ بن نوفل کے متعلق لکھاہےقَدْ تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِیَّ فَیَکْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ بِالْعِبْرَانِیَّۃِ مَاشَآءَ اللہُ اَنْ یَکْتُبَ۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدءالوحی الی رسول اللہ) یعنی ورقہ عبرانی زبان میں انجیل لکھاکرتے تھے۔